Arabic (Original)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، أَخْبَرَنِي مَوْلَى ابْنِ سَبَّاعٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الآيَةُ : ( مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلاَ يَجِدْ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلاَ نَصِيرًا ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا بَكْرٍ أَلاَ أُقْرِئُكَ آيَةً أُنْزِلَتْ عَلَىَّ " . قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ فَأَقْرَأَنِيهَا فَلاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنِّي قَدْ كُنْتُ وَجَدْتُ انْقِصَامًا فِي ظَهْرِي فَتَمَطَّأْتُ لَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا شَأْنُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي وَأَيُّنَا لَمْ يَعْمَلْ سُوءًا وَإِنَّا لَمَجْزِيُّونَ بِمَا عَمِلْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ وَالْمُؤْمِنُونَ فَتُجْزَوْنَ بِذَلِكَ فِي الدُّنْيَا حَتَّى تَلْقَوُا اللَّهَ وَلَيْسَ لَكُمْ ذُنُوبٌ وَأَمَّا الآخَرُونَ فَيُجْمَعُ ذَلِكَ لَهُمْ حَتَّى يُجْزَوْا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ . مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمَوْلَى ابْنِ سَبَّاعٍ مَجْهُولٌ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَلَيْسَ لَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ أَيْضًا . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ .
English Translation
It is narrated by Hadrat Abu Bakr As-Siddiq that "I was with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) when this Ayah was revealed to him: Whoever works evil will have the recompense of it (4:123). So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'O Hadrat Abu Bakr! Shall I recite to you an Ayah revealed to me?' I said: 'Of course O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!' So he recited it to me, and I do not know except that I found it as a fatal blow, but I repressed it. So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'What is bothering you O Hadrat Abu Bakr?' I submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! May my father and my mother be your ransom! Which of us has not done evil - and yet we shall be recompensed for what we have done?' So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'As for you O Hadrat Abu Bakr, and the believers, they will be recompensed for that in the world until they meet Allah and they have no sins. As for the others, then that will be collected for them until they are recompensed for it on the Day of Judgement
Urdu Translation
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا اس وقت آپ پر یہ آیت: «من يعمل سوءا يجز به ولا يجد له من دون الله وليا ولا نصيرا» نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”حضرت ابوبکر! کیا میں تمہیں ایک آیت جو ( ابھی ) مجھ پر اتری ہے نہ پڑھا دوں؟“ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: تو آپ نے مجھے ( مذکورہ آیت ) پڑھائی۔ میں نہیں جانتا کیا بات تھی، مگر میں نے اتنا پایا کہ کمر ٹوٹ رہی ہے تو میں نے اس کی وجہ سے انگڑائی لی، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حضرت ابوبکر کیا حال ہے!“ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، بھلا ہم میں کون ہے ایسا جس سے کوئی برائی سرزد نہ ہوتی ہو؟ اور حال یہ ہے کہ ہم سے جو بھی عمل صادر ہو گا ہمیں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” ( گھبراؤ نہیں ) حضرت ابوبکر تم اور سارے مومن لوگ یہ ( چھوٹی موٹی ) سزائیں تمہیں اسی دنیا ہی میں دے دی جائیں گی، یہاں تک کہ جب تم اللہ سے ملو گے تو تمہارے ذمہ کوئی گناہ نہ ہو گا، البتہ دوسروں کا حال یہ ہو گا کہ ان کی برائیاں جمع اور اکٹھی ہوتی رہیں گی جن کا بدلہ انہیں قیامت کے دن دیا جائے گا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور اس کی سند میں کلام ہے، ۲- موسیٰ بن عبیدہ حدیث میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید اور احمد بن حنبل نے ضعیف کہا ہے۔ اور مولی بن سباع مجہول ہیں، ۳- اور یہ حدیث اس سند کے علاوہ سند سے حضرت ابوبکر سے مروی ہے، لیکن اس کی کوئی سند بھی صحیح نہیں ہے، ۴- اس باب میں حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بھی روایت ہے۔
