Arabic (Original)
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَقَالَ " تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ ثَوْبَانَ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَى خَالِدٌ الْحَذَّاءُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ نَحْوَ حَدِيثِ عَاصِمٍ . وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " . وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ " سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلاَمٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " .
English Translation
Hadrat Aishah narrated:(Another chain) which is similar, but he said: (Tabarakta ya dhal-jalali wal-ikram) "Blessed are You, O Possessor of Majesty and Honor
Urdu Translation
اس سند سے بھی عاصم الاحول سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اور اس میں «تباركت يا ذا الجلال والإكرام» ( «یا» کے ساتھ ) ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، خالد الحذاء نے یہ حدیث بروایت حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ عبداللہ بن حارث سے عاصم کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ سلام پھیرنے کے بعد «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، وہی زندگی اور موت دیتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو نہ دے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور تیرے آگے کسی نصیب والے کا کوئی نصیب کام نہیں آتا“ کہتے تھے، یہ بھی مروی ہے کہ آپ «سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين» ”پاک ہے تیرا رب جو عزت والا ہے ہر اس برائی سے جو یہ بیان کرتے ہیں اور سلامتی ہو رسولوں پر اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہاں کا رب ہے“ بھی کہتے تھے ۱؎، ۳- اس باب میں ثوبان، حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس، حضرت ابوسعید، حضرت ابوہریرہ اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
