Arabic (Original)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَا سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ قَالَ عَلِيٌّ مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَاهُ وَأُمَّهُ لأَحَدٍ إِلاَّ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ " ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " . وَقَالَ لَهُ " ارْمِ أَيُّهَا الْغُلاَمُ الْحَزَوَّرُ " . وَفِي الْبَابِ عَنِ الزُّبَيْرِ وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ .
English Translation
It is narrated by Hadrat 'Ali that "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) did not mention both of his parents for anyone except Hadrat Sa'd bin Abi Waqqas. On the Day of Uhud he said: 'Shoot, may my father and mother be ransomed for you.' And he said to him: 'Shoot! O young man
Urdu Translation
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے والد اور اپنی ماں کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا کسی کے لیے جمع نہیں کیا۔ جنگ احد میں آپ نے ان سے کہا: ”تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں“، اور آپ نے ان سے یہ بھی کہا: ”اے بہادر قوی جوان! تیر چلاتے جاؤ“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث علی سے متعدد سندوں سے روایت کی گئی ہے، ۳- اس حدیث کو متعدد لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے سعید بن مسیب سے، سعید بن مسیب نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے اپنے والدین کو یکجا کر دیا۔ آپ نے فرمایا: ”تیر چلائے جاؤ، تم پر ہمارے ماں باپ قربان ہوں“، ۴- اس باب میں حضرت زبیر اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
