Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ الْقَوْمِ فِي سَفَرٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ . فَقَالَ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ فَكَأَنَّ الرَّجُلَ وَجِدَ فِي نَفْسِهِ فَقَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أَقُلْ إِلاَّ مَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ يَرُدُّ عَلَيْهِ يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَلْيَقُلْ يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ اخْتَلَفُوا فِي رِوَايَتِهِ عَنْ مَنْصُورٍ وَقَدْ أَدْخَلُوا بَيْنَ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ وَسَالِمٍ رَجُلاً .
English Translation
It is narrated by Hadrat Salim bin 'Ubaid that he was with some people on a journey, and a man among the people sneezed and he said: "As-Salamu Alaikum (peace be upon you)." So he (Salim) said: "'Alaika Wa 'Ala Ummik (upon you and upon your mother)." It seemed as if that bothered the man, so he said: "Indeed I have not said except what the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated; a man sneezed in the presence of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and said: 'As-Salamu 'Alaikum (peace be upon you)' so the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: ''Alaika Wa 'Ala Ummik (upon you and upon your mother). When one of you sneezes let him say: "Al-Hamdulillahi Rabbil-'Alamin (All praise is due to the Lord of all that exists)" and let the one responding to him say: Yarhamukallah (May Allah have mercy upon you)" and let him reply: Yaghfirullah Li Walakum (May Allah forgive me and you both)
Urdu Translation
حضرت سالم بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ان میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا: «السلام عليكم» ( اس کے جواب میں ) سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: «عليك وعلى وأمك» ( سلام ہے تم پر اور تمہاری ماں پر ) ، یہ بات اس شخص کو ناگوار معلوم ہوئی تو سالم نے کہا: بھئی میں نے تو وہی کہا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا «السلام عليكم» تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «عليك وعلى أمك»، ( تم پر اور تمہاری ماں پر بھی سلامتی ہو ) ۔ ( آپ نے آگے فرمایا ) جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے «الحمدللہ رب العالمین» کہنا چاہیئے۔ اور جواب دینے والا «یرحمک اللہ» اور ( چھینکنے والا ) «يغفر الله لي ولكم» کہے، ( نہ کہ «السلام عليك» کہے ) ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ ایک ایسی حدیث ہے جس میں منصور سے روایت کرنے میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے، لوگوں نے ہلال بن یساف اور سالم کے درمیان ایک اور راوی کو داخل کیا ہے۔
