Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ قَدِمَ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ وَهُوَ بِدِمَشْقَ فَقَالَ مَا أَقْدَمَكَ يَا أَخِي فَقَالَ حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَمَا جِئْتَ لِحَاجَةٍ قَالَ لاَ . قَالَ أَمَا قَدِمْتَ لِتِجَارَةٍ قَالَ لاَ . قَالَ مَا جِئْتَ إِلاَّ فِي طَلَبِ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَبْتَغِي فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ وَإِنَّ الْعَالِمَ لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْمَاءِ وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ إِنَّ الأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلاَ دِرْهَمًا إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَ بِهِ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَلاَ نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ وَلَيْسَ هُوَ عِنْدِي بِمُتَّصِلٍ هَكَذَا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جَمِيلٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ خِدَاشٍ وَرَأَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ هَذَا أَصَحَّ .
English Translation
It is narrated by Hadrat Qais bin Kathir that "A man from Al-Madinah came to Abu Ad-Darda when he was in Dimashq. So he said: 'What brings you O my nephew?' He replied: 'A Hadith reached me which you have narrated from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).' He said: 'You did not come for some need?' He said: 'No.' He said: 'Did you come for trade?' He said: 'No, I did not come except seeking this Hadith.' So he said: 'Indeed, I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saying: "Whoever takes a path upon which he seeks knowledge, then Allah makes a path to Paradise easy for him. And indeed the angels lower their wings in approval to the one seeking knowledge. Indeed forgiveness is sought for the knowledgeable one by whomever is in the heavens and whomever is in the earth, even the fish in the waters. And superiority of the scholar over the worshiper is like the superiority of the moon over the rest of the celestial bodies. Indeed the scholars are the heirs of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)s, and the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)s do not leave behind Dinar or Dirham. The only legacy of the scholars is knowledge, so whoever takes from it, then he has indeed taken the most able share
Urdu Translation
قیس بن کثیر کہتے ہیں کہ ایک شخص مدینہ سے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس دمشق آیا، حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے کہا: میرے بھائی! تمہیں یہاں کیا چیز لے کر آئی ہے، اس نے کہا: مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث بیان کرتے ہیں، حضرت ابو الدرداء نے کہا: کیا تم کسی اور ضرورت سے تو نہیں آئے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: کیا تم تجارت کی غرض سے تو نہیں آئے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ میں تو صرف اس حدیث کی طلب و تلاش میں آیا ہوں، حضرت ابو الدرداء نے کہا: ( اچھا تو سنو ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص علم دین کی تلاش میں کسی راستہ پر چلے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اسے جنت کے راستہ پر لگا دیتا ہے۔ بیشک فرشتے طالب ( علم ) کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اور عالم کے لیے آسمان و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے۔ اس لیے جس نے اس علم کو حاصل کر لیا، اس نے ( علم نبوی اور وراثت نبوی سے ) پورا پورا حصہ لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- ہم عاصم بن رجاء بن حیوہ کی روایت کے سوا کسی اور طریقہ سے اس حدیث کو نہیں جانتے، اور اس حدیث کی سند میرے نزدیک متصل نہیں ہے۔ اسی طرح انہیں اسناد سے محمود بن خداش نے بھی ہم سے بیان کی ہے، ۲- یہ حدیث عاصم بن رجاء بن حیوہ نے بسند «داود بن جميل عن كثير بن قيس عن أبي الدرداء عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ اور یہ حدیث محمود بن خداش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور محمد بن اسماعیل بخاری کی رائے ہے کہ یہ زیادہ صحیح ہے۔
