Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَحَمَّادٍ، وَعَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، سَمِعُوا أَبَا وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ عُمَرُ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْفِتْنَةِ فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَنَا . قَالَ حُذَيْفَةُ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ يُكَفِّرُهَا الصَّلاَةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىُ عَنِ الْمُنْكَرِ . فَقَالَ عُمَرُ لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ وَلَكِنْ عَنِ الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا . قَالَ عُمَرُ أَيُفْتَحُ أَمْ يُكْسَرُ قَالَ بَلْ يُكْسَرُ . قَالَ إِذًا لاَ يُغْلَقُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو وَائِلٍ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ فَقُلْتُ لِمَسْرُوقٍ سَلْ حُذَيْفَةَ عَنِ الْبَابِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عُمَرُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
English Translation
Hadrat Abu Wa'il narrated from Hadrat Hudhaifah that 'Umar said: "Which of you remembers what the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said about the Fitnah?" So Hadrat Hudhaifah said: "I do." Hadrat Hudhaifah said: "A man's Fitnah is in his family, his wealth, his children, and his neighbors. It is atoned for by the Salat, fasting, charity, and by commanding good and forbidding evil." 'Umar said: "I am not asking you about this. Rather, about the Fitnah that spreads like the waves of the sea." He said: "O Commander of the Believers! Between you and it is a closed door." 'Umar said: "Will it be opened or broken?" He said: "It will be broken." He said: "Then it will never be closed until the Day of Judgement
Urdu Translation
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فتنہ کے بارے میں جو فرمایا ہے اسے کس نے یاد رکھا ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں نے یاد رکھا ہے، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا: ”آدمی کے لیے جو فتنہ اس کے اہل، مال، اولاد اور پڑوسی کے سلسلے میں ہو گا اسے نماز، روزہ، زکاۃ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر مٹا دیتے ہیں“ ۱؎، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں تم سے اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا ہوں، بلکہ اس فتنہ کے بارے میں پوچھ رہا ہوں جو سمندر کی موجوں کی طرح موجیں مارے گا، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ ہے، عمر نے پوچھا: کیا وہ دروازہ کھولا جائے گا یا توڑ دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا: توڑ دیا جائے گا، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تب تو قیامت تک بند نہیں ہو گا۔ حماد کی روایت میں ہے کہ حضرت ابووائل شقیق بن سلمہ نے کہا: میں نے مسروق سے کہا کہ حضرت حذیفہ سے اس دروازہ کے بارے میں پوچھو انہوں نے پوچھا تو کہا: وہ دروازہ عمر ہیں ۲؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
