Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عَلِيًّا، حَرَّقَ قَوْمًا ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَقَتَلْتُهُمْ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " . وَلَمْ أَكُنْ لأُحَرِّقَهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ " . فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا فَقَالَ صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْمُرْتَدِّ . وَاخْتَلَفُوا فِي الْمَرْأَةِ إِذَا ارْتَدَّتْ عَنِ الإِسْلاَمِ فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ تُقْتَلُ وَهُوَ قَوْلُ الأَوْزَاعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ تُحْبَسُ وَلاَ تُقْتَلُ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ .
English Translation
It is narrated by Hadrat 'Ikrimah that 'Ali burnt some people who apostasized from Islam. This news reached Hadrat Ibn 'Abbas, so he said: "If it were me I would have killed them according to the statement of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Whoever changes his religion then kill him.' And I would not have burned them because the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Do not punish with the punishment of Allah.' So this reached Hadrat 'Ali, and he said: "Hadrat Ibn 'Abbas has told the truth
Urdu Translation
عکرمہ سے روایت ہے کہ علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے کچھ ایسے لوگوں کو زندہ جلا دیا جو اسلام سے مرتد ہو گئے تھے، جب حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یہ بات معلوم ہوئی ۱؎ تو انہوں نے کہا: اگر ( علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی جگہ ) میں ہوتا تو انہیں قتل کرتا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: ”جو اپنے دین ( اسلام ) کو بدل ڈالے اسے قتل کرو“، اور میں انہیں جلاتا نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: ”اللہ کے عذاب خاص جیسا تم لوگ عذاب نہ دو“، پھر اس بات کی خبر علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو ہوئی تو انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے سچ کہا ۲؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح حسن ہے، ۲- مرتد کے سلسلے میں اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۳- جب عورت اسلام سے مرتد ہو جائے تو اس کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے: اسے قتل کیا جائے گا، اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۴- اور اہل علم کی دوسری جماعت کہتی ہے: اسے قتل نہیں بلکہ قید کیا جائے گا، سفیان ثوری اور ان کے علاوہ بعض اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
