Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَقَالَ أَنَسٌ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَكَلَّمَ أَهْلَهُ فَوَضَعُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ وَقَالَ " إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ " . أَوْ " إِنَّ مِنْ أَمْثَلِ دَوَائِكُمُ الْحِجَامَةَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ فِي كَسْبِ الْحَجَّامِ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ .
English Translation
It is narrated by Hadrat Anas that "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was cupped. Abu Hadrat Talhah did the cupping. So he ordered that he be given two Sa' of food, and he spoke to his masters to reduce his taxes. He said: 'The most virtuous of what you treat with is cupping.' Or, he said: 'The best of your treatments is cupping.'" [He said:] There are narrations on this topic from Hadrat 'Ali, Hadrat Ibn 'Abbas, and Hadrat Ibn 'Umar. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Hadrat Anas is a Hasan Sahih. Some of the people of knowledge among the Companions of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and others permitted paying the cupper. This is the view of Ash-Shafi'i
Urdu Translation
حمید کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پچھنا لگانے والے کی کمائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پچھنا لگوایا، اور آپ کو پچھنا لگانے والے ابوطیبہ تھے، تو آپ نے انہیں دو صاع غلہ دینے کا حکم دیا اور ان کے مالکوں سے بات کی، تو انہوں نے ابوطیبہ کے خراج میں کمی کر دی اور آپ نے فرمایا: ”جن چیزوں سے تم دوا کرتے ہو ان میں سب سے افضل پچھنا ہے“ یا فرمایا: ”تمہاری بہتر دواؤں میں سے پچھنا ہے“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳ – صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے پچھنا لگانے والے کی اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔ یہی شافعی کا بھی قول ہے۔
