Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ كَانَ عِنْدَنَا خَمْرٌ لِيَتِيمٍ فَلَمَّا نَزَلَتِ الْمَائِدَةُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْهُ وَقُلْتُ إِنَّهُ لِيَتِيمٍ . فَقَالَ " أَهْرِيقُوهُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوُ هَذَا . وَقَالَ بِهَذَا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَكَرِهُوا أَنْ تُتَّخَذَ الْخَمْرُ خَلاًّ وَإِنَّمَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنْ يَكُونَ الْمُسْلِمُ فِي بَيْتِهِ خَمْرٌ حَتَّى يَصِيرَ خَلاًّ . وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ فِي خَلِّ الْخَمْرِ إِذَا وُجِدَ قَدْ صَارَ خَلاًّ . أَبُو الْوَدَّاكِ اسْمُهُ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ .
English Translation
It is narrated by Hadrat Abu Al-Waddak that Abu Sa'eed said: "We had some wine that belonged to an orphan. When Al-Ma'idah was revealed I asked the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) about it, I said: 'It belongs to an orphan.' He said: 'Spill it out.'" [He said:] There is something on this topic from Hadrat Anas bin Malik. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Abu Sa'eed is a Hasan [Sahih] Hadith. Similar to this has been reported through other routes from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). Some of the people of knowledge stated according to this, they dislike the usage of wine for making vinegar. And the only thing that they disliked about it, and Allah knows best, is for a Muslim to have wine in his house until it becomes vinegar. Abu Al-Waddak's name is Jabr bin Nawf
Urdu Translation
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک یتیم کی شراب تھی، جب سورۃ المائدہ نازل ہوئی ( جس میں شراب کی حرمت مذکور ہے ) تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا اور عرض کیا کہ وہ ایک یتیم کی ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”اسے بہا دو“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور بھی سندوں سے یہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے، ۳- اس باب میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، ۴- بعض اہل علم اسی کے قائل ہیں، یہ لوگ شراب کا سرکہ بنانے کو مکروہ سمجھتے ہیں، اس وجہ سے اسے مکروہ قرار دیا گیا ہے کہ مسلمان کے گھر میں شراب رہے یہاں تک کہ وہ سرکہ بن جائے۔ «واللہ اعلم»، ۵- بعض لوگوں نے شراب کے سرکہ کی اجازت دی ہے جب وہ خود سرکہ بن جائے۔
