Arabic (Original)
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ وَكَانَ يُبَايِعُ وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ احْجُرْ عَلَيْهِ . فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَهَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لاَ أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ . فَقَالَ " إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ هَاءَ وَهَاءَ وَلاَ خِلاَبَةَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ . وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَقَالُوا يُحْجَرُ عَلَى الرَّجُلِ الْحُرِّ فِي الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ إِذَا كَانَ ضَعِيفَ الْعَقْلِ . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ أَنْ يُحْجَرَ عَلَى الْحُرِّ الْبَالِغِ .
English Translation
It is narrated by Hadrat Anas that there was a man who was not very sensible and he would make purchases. So his family came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Stop him (from making purchases)." So Allah's Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) called him to prohibit him, and he submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I have no patience for business." So he said: "When you are buying, say: 'Hand to hand, and no cheating.'" [Abu 'Eisa said:] There is a narration on this topic from Hadrat Ibn 'Umar. The Hadith of Hadrat Anas is a Hasan Sahih Gharib Hadith. This is acted upon according to the people of knowledge. They say that the free man can be prevented from selling and buying when his intellect is weak. This is the view of Ahmad and Ishaq (upon him be peace). Some of the scholars did not think that the free person who had attained the age of responsibility could be prevented from that
Urdu Translation
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی خرید و فروخت کرنے میں بودا ۱؎ تھا اور وہ ( اکثر ) خرید و فروخت کرتا تھا، اس کے گھر والے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ان لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس کو ( خرید و فروخت سے ) روک دیجئیے، تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلوایا اور اسے اس سے منع فرما دیا۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بیع سے باز رہنے پر صبر نہیں کر سکوں گا، آپ نے فرمایا: ” ( اچھا ) جب تم بیع کرو تو یہ کہہ لیا کرو کہ ایک ہاتھ سے دو اور دوسرے ہاتھ سے لو اور کوئی دھوکہ دھڑی نہیں ۲؎“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ آزاد شخص کو خرید و فروخت سے اس وقت روکا جا سکتا ہے جب وہ ضعیف العقل ہو، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- اور بعض لوگ آزاد بالغ کو بیع سے روکنے کو درست نہیں سمجھتے ہیں ۳؎۔
