It is narrated by Hadrat Salim that From his father that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Whoever purchases a date-palm after it has been pollinated then its fruits are for the one who sold it, unless the buyer made it a condition. And whoever purchases slave who has property, then his property is for the one who sold him, unless the buyer made it a condition." [He said:] There is something on this topic from Hadrat Jabir. The Hadith of Hadrat Ibn 'Umar is a Hasan Sahih Hadith. Similarly, it has been reported by more than one route from Az-Zuhri, from Salim, from Hadrat Ibn 'Umar, that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) "Whoever purchases a date-palm after it has been pollinated, then its fruits are for seller, unless the buyer made it a condition. And whoever purchases a slave who has property, then his property is for the seller, unless the buyer made it a condition." And it has been reported from Nafi', from Hadrat Ibn 'Umar, that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Whoever purchases a date-palm that has been pollinated, then its fruits are for the seller, unless the buyer made it a condition." It has been reported from Nafi', from Hadrat Ibn 'Umar, from 'Umar, that he (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Whoever sold a slave who has property, his property is for the seller, unless the buyer made it a condition." This is how the two Ahadith were reported by 'Ubaidullah bin 'Umar and others from Nafi'. Some of them have also reported this Hadith from Nafi', from Hadrat Ibn 'Umar, from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). 'Ikrimah bin Khalid reported similar to the Hadith of Salim, from Hadrat Ibn 'Umar, from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). This Hadith is acted upon according to some of the people of knowledge. It is the view of Ash-Shafi'i, Ahmad, and Ishaq (upon him be peace). Muhammad bin Isma'il said: "The Hadith of Az-Zuhri from Salim, from his father, from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) is the most correct [of what has been reported on this topic]
Urdu Translation
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے «تأبیر» ۱؎ ( پیوند کاری ) کے بعد کھجور کا درخت خریدا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا ہو گا ۲؎ الا یہ کہ خریدنے والا ( خریدتے وقت پھل کی ) شرط لگا لے۔ اور جس نے کوئی ایسا غلام خریدا جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بیچنے والے ہی کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا ( خریدتے وقت مال کی ) شرط لگا لے“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح اور بھی طرق سے بسند «عن الزهري عن سالم عن حضرت ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت ہے آپ نے فرمایا: ”جس نے پیوند کاری کے بعد کھجور کا درخت خریدا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا ( درخت کے ساتھ پھل کی بھی ) شرط لگا لے اور جس نے کوئی ایسا غلام خریدا جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بیچنے والے کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا ( غلام کے ساتھ مال کی بھی ) شرط لگا لے“، ۳- یہ نافع سے بھی مروی ہے انہوں نے حضرت ابن عمر سے اور حضرت ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے کھجور کا کوئی درخت خریدا جس کی پیوند کاری کی جا چکی ہو تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا ( درخت کے ساتھ پھل کی بھی ) شرط لگا لے“، ۴- نافع سے مروی ہے وہ حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جس نے کوئی غلام بیچا جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بیچنے والے ہی کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا ( غلام کے ساتھ مال کی بھی ) شرط لگا لے، ۵- اسی طرح عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے نافع سے دونوں حدیثیں روایت کی ہیں، ۶- نیز بعض لوگوں نے یہ حدیث نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے، ۷- عکرمہ بن خالد نے حضرت ابن عمر سے حضرت ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سالم کی حدیث کی طرح روایت کی ہے۔ ۸- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ زہری کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «عن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے اس باب میں سب سے زیادہ صحیح ہے، ۹- بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۱۰- اس باب میں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی روایت ہے۔
It is narrated by Hadrat Salim that From his father that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Whoever purchases a date-palm after it has been pollinated then its fruits are for the one who sold it, unless the buyer made it a condition. And whoever purchases slave who has property, then his property is for the one who sold him, unless the buyer made it a condition." [He said:] There is something on this topic from Hadrat Jabir. The Hadith of Hadrat Ibn 'Umar is a Hasan Sahih Hadith. Similarly, it has been reported by more than one route from Az-Zuhri, from Salim, from Hadrat Ibn 'Umar, that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) "Whoever purchases a date-palm after it has been pollinated, then its fruits are for seller, unless the buyer made it a condition. And whoever purchases a slave who has property, then his property is for the seller, unless the buyer made it a condition." And it has been reported from Nafi', from Hadrat Ibn 'Umar, that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Whoever purchases a date-palm that has been pollinated, then its fruits are for the seller, unless the buyer made it a condition." It has been reported from Nafi', from Hadrat Ibn 'Umar, from 'Umar, that he (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Whoever sold a slave who has property, his property is for the seller, unless the buyer made it a condition." This is how the two Ahadith were reported by 'Ubaidullah bin 'Umar and others from Nafi'. Some of them have also reported this Hadith from Nafi', from Hadrat Ibn 'Umar, from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). 'Ikrimah bin Khalid reported similar to the Hadith of Salim, from Hadrat Ibn 'Umar, from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). This Hadith is acted upon according to some of the people of knowledge. It is the view of Ash-Shafi'i, Ahmad, and Ishaq (upon him be peace). Muhammad bin Isma'il said: "The Hadith of Az-Zuhri from Salim, from his father, from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) is the most correct [of what has been reported on this topic]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے «تأبیر» ۱؎ ( پیوند کاری ) کے بعد کھجور کا درخت خریدا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا ہو گا ۲؎ الا یہ کہ خریدنے والا ( خریدتے وقت پھل کی ) شرط لگا لے۔ اور جس نے کوئی ایسا غلام خریدا جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بیچنے والے ہی کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا ( خریدتے وقت مال کی ) شرط لگا لے“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح اور بھی طرق سے بسند «عن الزهري عن سالم عن حضرت ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت ہے آپ نے فرمایا: ”جس نے پیوند کاری کے بعد کھجور کا درخت خریدا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا ( درخت کے ساتھ پھل کی بھی ) شرط لگا لے اور جس نے کوئی ایسا غلام خریدا جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بیچنے والے کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا ( غلام کے ساتھ مال کی بھی ) شرط لگا لے“، ۳- یہ نافع سے بھی مروی ہے انہوں نے حضرت ابن عمر سے اور حضرت ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے کھجور کا کوئی درخت خریدا جس کی پیوند کاری کی جا چکی ہو تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا ( درخت کے ساتھ پھل کی بھی ) شرط لگا لے“، ۴- نافع سے مروی ہے وہ حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جس نے کوئی غلام بیچا جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بیچنے والے ہی کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا ( غلام کے ساتھ مال کی بھی ) شرط لگا لے، ۵- اسی طرح عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے نافع سے دونوں حدیثیں روایت کی ہیں، ۶- نیز بعض لوگوں نے یہ حدیث نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے، ۷- عکرمہ بن خالد نے حضرت ابن عمر سے حضرت ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سالم کی حدیث کی طرح روایت کی ہے۔ ۸- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ زہری کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «عن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے اس باب میں سب سے زیادہ صحیح ہے، ۹- بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۱۰- اس باب میں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی روایت ہے۔