Arabic (Original)
806 - وأنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا النَّيْسَابُورِيُّ، أنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، نا أَبُو مَعْشَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ الدَّارِ، قَالَ: دَخَلَ زِيَادٌ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ يَعُودُهُ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ: «يَا زِيَادُ، اتَّقِ اللَّهَ فَإِنَّ شَرَّ الْأَئِمَّةِ الْحُطَمَةُ»فَقَالَ لَهُ زِيَادٌ:" إِنَّمَا أَنْتَ مِنْ حُثَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا كَانَ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ حُثَالَةٌ، أَفَلَا أُخْبِرُكَ يَا زِيَادُ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟»فَقَالَ: بَلَى، وَلَا تَكْذِبْ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «لَوْ كُنْتُ كَاذِبًا عَلَى أَحَدٍ مَا كَذَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ إِمَامٍ يَبِيتُ لَيْلَةً غَاشًّا لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرْفَ الْجَنَّةِ وَرِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ خَرِيفًا»قَالَ: فَقَالَ لَهُ زِيَادٌ: «سَلْنِي مَا شِئْتَ»، قَالَ: «أَسْأَلُكَ أَنْ لَا تَنْفَعَنِي وَلَا تَضُرَّنِي، وَإِنْ مَرِضْتُ فَلَا تَعُدْنِي، وَإِنْ مُتُّ فَلَا تَشْهَدْنِي»قَالَ: فَلَمْ يَمْكُثْ إِلَّا لَيَالِيَ قَلِيلَةً حَتَّى مَاتَ، فَرَأَى زِيَادٌ النَّاسَ يَزْحُمُونَ عَلَى جِنَازَتِهِ، قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ، قَالَ: «أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّهُ سَأَلَنِي أَلَّا أَشْهَدَ جِنَازَتَهُ لَشَهِدْتُهُ»
English Translation
Abu Sa'id (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (peace be upon him) - and he mentioned the hadith.
Urdu Translation
محمد بن عبد اللہ بن مالک الدار کہتے ہیں کہ زیاد سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے ان کے پاس آیا تو سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اے زیاد! اللہ سے ڈر کیونکہ حاکموں کا شر توڑ پھوڑ کر رکھ دینے والی چیز ہے۔ زیاد نے ان سے کہا: تم تو اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں سے گھٹیا درجے کے آدمی ہو۔ انہوں نے کہا: اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں گھٹیا درجے کا آدمی کوئی نہ تھا، اے زیاد! کیا میں تجھے ایک ایسی بات نہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے سنی ہے؟ اس نے کہا: کیوں نہیں (بتاؤ) لیکن آپصلی اللہ علیہ وسلمپر جھوٹ نہ باندھنا۔ انہوں نے کہا: اگر (بالفرض) میں کسی عام آدمی پر جھوٹ باندھنے والا ہوتا تو بھی رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمپر جھوٹ نہ باندھتا، میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ فرماتے سنا:”جو حاکم اس حال میں رات بسر کرے کہ اپنی عوام کو دھوکا دینے والا ہو تو اس پر جنت کی خوشبو اور اس کی ہوا حرام کر دی جائے گی حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے آ رہی ہوگی۔“راوی کہتا ہے کہ زیاد نے ان سے کہا: مجھ سے جو چاہتے ہو مانگ لو۔ انہوں نے کہا: میں تجھ سے یہی مانگتا ہوں کہ نہ مجھے نفع دے اور نہ نقصان، اگر میں بیمار ہو جاؤں تو میری عیادت کے لیے نہ آنا اور اگر میں مر جاؤں تو میرے جنازے میں بھی شرکت نہ کرنا۔ راوی کہتا ہے کہ پھر چند راتیں ہی گزری تھیں کہ ان (عبد اللہ) کا انتقال ہو گیا۔ زیاد نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ ان کے جنازے پر ہجوم لگا رہے ہیں۔ کہنے لگا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: عبد اللہ بن مغفل۔ کہنے لگا: اللہ کی قسم! اگر انہوں نے مجھ سے یہ چیز نہ مانگی ہوتی کہ میں ان کے جنازے میں شریک نہ ہوں تو ضرور ان کے جنازے میں شریک ہوتا۔[مسند الشهاب/حدیث: 806]
