Arabic (Original)
نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ شَيْبَةَ بْنِ نَصَّاحٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ،عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ أَكْرَمَهُ كَرَامَةً لَمْ يُكْرِمْهَا أَحَدًا مِنْ خَلْقِهِ، أَرَاهُ مَنْ هُوَ كَائِنٌ مِنْ صُلْبِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنْ يَكُنْ مِمَّا أَرَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ يَكُنْ , فَلا عَلَيْكَ أَنْ لا تَفْعَلَهُ".
English Translation
Sa'id ibn al-Musayyib (may Allah have mercy on him) was asked about coitus interruptus and said: 'When Allah the Exalted created Adam, He honored him with an honor He had not given anyone else in His creation — He showed him everyone who would come from his offspring until the Day of Resurrection. If any of them is destined to be born, as Allah showed him, it will come to be — so there is no harm in not practicing coitus interruptus.'
Urdu Translation
میں نے سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے عزل یعنی جماع کے دوران منی کو باہر نکالنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: جب اللہ عزوجل نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کو ایسی عزت دی جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دی، اور ان کو ان کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والے تمام لوگوں کو دکھایا۔ پھر فرمایا: جو کچھ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو دکھایا ہے، وہ ضرور ہو کر رہے گا، لہٰذا اگر تم عزل نہ بھی کرو تو کوئی حرج نہیں۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 968]
