Arabic (Original)
نا نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ, قَالَ: قَدِمْتُ الْبَحْرَيْنِ فَسَأَلَنِي أَهْلُهَا عَمَّا يَقْذِفُ الْبَحْرُ مِنَ السَّمَكِ، فَأَمَرْتُهُمْ بِأَكْلِهِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ سَأَلْتُ عُمَرَ، عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَا أَمَرْتَهُمْ؟ , فَقُلْتُ: أَمَرْتُهُمْ بِأَكْلِهِ , فَقَالَ: لَوْ قُلْتَ غَيْرَ ذَلِكَ لَعَلَوْتُكَ بِالدِّرَّةِ، ثُمَّ قَرَأَعُمَرُ: أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ سورة المائدة آية 96 , قَالَ:" صَيْدُهُ مَا اصْطِيدَ، وَطَعَامُهُ مَا رَمَى بِهِ".
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) said: "I went to Bahrain and its people asked me about fish that the sea casts ashore. I told them to eat it. When I returned, I asked 'Umar, who asked what I had told them. I said: 'I told them to eat it.' 'Umar said: 'If you had said otherwise, I would have disciplined you.'"
Urdu Translation
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بحرین آیا تو وہاں کے لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ سمندر جو مچھلی خشکی پر پھینک دے اس کا کیا حکم ہے؟ میں نے انہیں اسے کھانے کا حکم دیا۔ جب واپس آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: تم نے انہیں کیا حکم دیا تھا؟ میں نے کہا: میں نے انہیں کھانے کا حکم دیا تھا۔ فرمایا: اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور کہتے تو میں تمہیں درے سے مارتا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ﴾اور فرمایا:«صَيْدُهُ»وہ ہے جسے خود شکار کیا جائے اور«طَعَامُهُ»وہ ہے جسے سمندر خشکی پر پھینک دے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 836]
