Arabic (Original)
نا نا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الأَبَحُّ , قَالَ: نا سَعِيدُ بْنُ مِينَا , قَالَ:كَانَ بَيْنَ صَاحِبٍ لِي وَرَجُلٍ من أهل السوق بمكة لحاء، فأخذ صاحبي كرسيا، فضرب به رأس الرجل، فقتله، وندم، وَقَالَ: إِنِّي سَأَخْرُجُ مِنْ مَالِي، ثُمَّ أَنْطَلِقُ فَأَجْعَلُ نَفْسِي حَبِيسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: قُلْتُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ عُمَرَ نَسَلْهُ هَلْ لَكَ مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ , قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ عَلَى مَا كَانَتْ قَالَ: قُلْتُ: هَلْ تَرَى لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ:" كُلْ وَاشْرَبْ، أُفٍّ، قُمْ عَنِّي"، إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَمْ يُرِدْ قَتْلَهُ , قَالَ:" كَذَبَ، يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى الْخَشَبَةِ، فَيَضْرِبُ بِهَا رَأْسَ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ، ثُمَّ يَقُولُ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ قَتْلَهُ، كَذَبَ، كُلْ وَاشْرَبْ مَا اسْتَطَعْتَ، أُفٍّ، قُمْ عَنِّي"، فَلَمْ يَزِدْنَا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قُمْنَا.
English Translation
Sa'id ibn Mina (may Allah have mercy on him) narrated: My companion had an altercation with a man from the market in Makkah. My companion grabbed a chair and struck the man on his head, killing him. He was remorseful and said: 'I will give away all my wealth and devote myself to the cause of Allah.' I said: 'Let us go to Ibn Umar and ask him whether there is repentance for you.' We went to him in Makkah and I recounted the story. I asked: 'Do you see any way of repentance for him?' He said: 'Eat and drink! Ugh! Get away from me!' He claims he did not intend to kill him? He said: 'He lies! One of you takes a wooden object and strikes a Muslim man on the head, then says: I did not intend to kill him? He lies! Eat and drink as much as you can. Ugh! Get away from me!' He said nothing more until we left.
Urdu Translation
سعید بن مینا رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میرے ایک ساتھی اور مکہ کے بازار کے ایک شخص کے درمیان جھگڑا ہوا، تو میرے ساتھی نے ایک کرسی اٹھا کر اس شخص کے سر پر ماری، جس سے وہ مر گیا، پھر وہ نادم ہوا اور کہنے لگا: میں اپنا سارا مال صدقہ کر دوں گا اور اللہ کے راستے میں خود کو قید کر دوں گا، میں نے کہا: آؤ ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس چلتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کیا تمہارے لیے توبہ ہے؟ چنانچہ ہم مکہ میں ان کے پاس پہنچے، میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! اور پھر پوری تفصیل بیان کی، اور پوچھا: کیا آپ اس کے لیے توبہ کی کوئی صورت دیکھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کھاؤ پیو، اُف، میرے سامنے سے اٹھ جاؤ! وہ کہتا ہے کہ اس نے قتل کا ارادہ نہیں کیا؟ جھوٹ بولتا ہے! تم میں سے کوئی لکڑی سے کسی مسلمان کے سر پر مارتا ہے، پھر کہتا ہے: میرا قتل کا ارادہ نہیں تھا؟ جھوٹ بولتا ہے! کھاؤ پیو جتنا کھا سکتے ہو، اُف، میرے سامنے سے اٹھ جاؤ! اس کے بعد انہوں نے ہمیں کچھ نہ کہا، حتیٰ کہ ہم وہاں سے اٹھ گئے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 670]
