Arabic (Original)
نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلا خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلا أَنْ يَصَّدَّقُوا سورة النساء آية 92 , قَالَ:" هَذَا الْمُسْلِمُ الَّذِي وَرَثَتُهُ الْمُسْلِمُونَ"، فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ سورة النساء آية 92 قَالَ:" هَذَا الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ وَقَوْمُهُ مُشْرِكُونَ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْدٌ"، وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ سورة النساء آية 92 قَالَ:" هَذَا الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ وَقَوْمُهُ مُشْرِكُونَ، وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْدٌ فَيُقْتَلُ فَيَكُونُ مِيرَاثُهُ لِلْمُسْلِمِينَ، وَتَكُونُ دِيَتُهُ لِقَوْمِهِ , لأَنَّهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ".
English Translation
Ibrahim al-Nakha'i (may Allah have mercy on him) said regarding the verse 'And never is it for a believer to kill a believer except by mistake' (al-Nisa: 92): 'The first case is a Muslim whose heirs are Muslims—the blood money goes to them. The second case is a Muslim from an enemy people—only the freeing of a believing slave is required, because his family are polytheists and have no treaty with the Messenger of Allah. The third case is a Muslim from a people with whom there is a treaty—the blood money goes to his polytheist family because they are responsible for his blood money, and his inheritance goes to the Muslims.'
Urdu Translation
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے آیت﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً﴾کی تفسیر میں فرمایا: جب مسلمان غلطی سے کسی ایسے مسلمان کو قتل کرے جس کے ورثاء مسلمان ہوں، تو دیہ انہیں دی جاتی ہے؛ اور اگر وہ مسلمان کسی ایسی قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہو، تو اس کی صرف گردن آزاد کی جائے گی، کیونکہ اس کے ورثاء مشرک ہیں اور ان کا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے کوئی معاہدہ نہیں؛ اور اگر وہ مسلمان ایسی مشرک قوم سے تعلق رکھتا ہو جس سے مسلمانوں کا معاہدہ ہو، تو پھر دیہ اس کے مشرک ورثاء کو دی جائے گی کیونکہ وہی اس کی دیت کے ذمہ دار ہیں، اور اس کا ترکہ مسلمانوں کو ملے گا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 664]
