Arabic (Original)
نا نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ , قَالَ:أَتَى عَلِيًّا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ، وَمَعَهُمَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَبَعَثَ عَلِيٌّ حَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَكَمَيْنِ:" أَتَدْرِيَانِ مَا عَلَيْكُمَا؟ إِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تُفَرِّقَا، فَرَّقْتُمَا، وَإِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تَجْمَعَا، جَمَعْتُمَا"، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: رَضِيتُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ لِي وَعَلَيَّ، فَقَالَ الزَّوْجُ: أَمَّا الْفُرْقَةُ فَلا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" كَلا وَاللَّهِ، حَتَّى تُقِرَّ بِمِثْلِ مَا أَقَرَّتْ بِهِ"،
English Translation
A man and a woman came to Ali (may Allah be pleased with him) with a group of people. Ali sent an arbitrator from her family and one from his family, then said to the two arbitrators: 'Do you know what is required of you? If you see fit to separate them, then separate them; and if you see fit to keep them together, then keep them together.' The woman said: 'I accept the judgment of Allah's words, for me and against me.' But the husband said: 'As for separation, no.' Ali (may Allah be pleased with him) said: 'By Allah, you shall not leave until you accept the same as she has accepted.'
Urdu Translation
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک زوجین آئے، تو آپ نے ان کے درمیان دو ثالث مقرر کیے اور ان سے فرمایا:”اگر تم دونوں مناسب سمجھو تو جدائی کروا سکتے اور اگر چاہو تو ان میں صلاح کروا سکتے۔“عورت نے کہا:”میں اللہ کے احکام کو اپنے حق میں اور اپنے خلاف قبول کرتی ہوں۔“مگر شوہر نے کہا:”میں جدائی کو قبول نہیں کرتا۔“تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”اللہ کی قسم! جب تک تم بھی اسی طرح اقرار نہ کرو جیسے اس نے کیا ہے، ایسا نہیں ہوگا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 628]
