Arabic (Original)
نَاهُشَيْمٌ، قَالَ: نَامُغِيرَةُ، عَنِالشَّعْبِيِّ، قَالَ: لَمَّاعَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُلاعَنَةَ عَلَى أَهْلِ نَجْرَانَ، قَبِلَ ذَلِكَ مِنْهُ السَّيِّدُ وَالْعَاقِلُ، فَرَجَعَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ كَانَ نَجِيبًا , فَقَالَ لَهُمَا: مَا صَنَعْتُمَا شَيْئًا، وَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا، لا يَعْصِيهِ اللَّهُ فِيكُمْ، وَإِنْ كَانَ مَلِكًا، فَقَالا لَهُ: مَا تَرَى؟، قَالَ: أَرَى أَنْ تَغْدُوَا، فَإِنَّهُ يَغْدُو لِمِيعَادِكُمَا، فَإِذَا غَدَا عَلَيْكُمَا، فَإِنَّهُ سَيَعْرِضُ عَلَيْكُمَا الْمُلاعَنَةَ، فَإِذَا عَرَضَ ذَلِكَ عَلَيْكُمَا، فَقُولا لَهُ: نَعُوذُ بِاللَّهِ، وَاغْدُوَا، وَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ، وَحُسَيْنٍ يَتْبَعُهُ، وَفَاطِمَةُ تَمْشِي مِنْ خَلْفِهِ، فَقَالَ لَهُمَا:" هَلْ لَكُمَا فِي الأَمْرِ الَّذِي انْطَلَقْتُمَا عَلَيْهِ مِنَ الْمُلاعَنَةِ؟" , فَقَالا: نَعُوذُ بِاللَّهِ، قَالَ: فَرَدَّدَ ذَلِكَ عَلَيْهِمَا، فَقَالا: نَعُوذُ بِاللَّهِ، مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلاثًا، فَقَالَ لَهُمَا:" هَلْ لَكُمَا فِي الإِسْلامِ أَنْ تُسْلِمَا وَيَكُونَ لَكُمَا مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْكُمَا مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ؟" , فَلَمْ يَقْبَلا ذَلِكَ وَكَرِهَاهُ، فَقَالَ لَهُمَا:" هَلْ لَكُمَا فِي الْجِزْيَةِ تُؤَدِّيَانِهَا، وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ؟" , فَقَبِلا ذَلِكَ، وَقَالا: لا طَاقَةَ لَنَا بِحَرْبِ الْعَرَبِ.
English Translation
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) said regarding the verse: 'Do they desire other than the religion of Allah?' (Aal Imran: 83): This was revealed about the People of the Book — the Jews and Christians.
Urdu Translation
جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اہل نجران کے ساتھ مباہلہ کا ارادہ کیا، تو ان کے سردار سید اور عاقب نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ کسی نیک شخص سے مشورہ کریں۔ وہ ایک نیک شخص کے پاس گئے، جس نے ان سے کہا:”اگر یہ نبی ہیں تو اللہ ان کی بات نہ ٹالے گا اور اگر یہ بادشاہ ہیں تو وہ تم پر غالب آئیں گے۔“پھر اس نیک شخص نے کہا:”میں تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ تم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ ملاقات کے لیے جاؤ، اور جب وہ مباہلہ پیش کریں تو تم اللہ سے پناہ مانگو۔“اس کے بعد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماپنے نواسوں حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ اور بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کے پاس گئے اور فرمایا:”کیا تمہیں اس معاملے میں مباہلہ کے بجائے اسلام قبول کرنے کی پیشکش کرنی چاہیے؟“لیکن انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ انہیں اس معاملے کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے، پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے جزیہ ادا کرنے کی بات کی اور وہ اس پر راضی ہو گئے، کیونکہ انہیں عربوں سے لڑنے کی استطاعت نہیں تھی۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 500]
