Arabic (Original)
نا نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ الْمِصْرِيِّينَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ،فَلَمَّا ضَرَبُوهُ خَرَجْتُ أَشْتَدُّ قَدْ مَلأْتُ فُرُوجِي عَدْوًا حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فِي نَحْوٍ مِنْ عَشْرَةٍ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَ لِي:" مَا وَرَاءَكَ؟" فَقُلْتُ: قَدْ وَاللَّهِ قَدْ فُرِغَ مِنَ الرَّجُلِ، فَقَالَ:" تَبًّا لَكُمْ آخِرَ الدَّهْرِ"، وَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ.
English Translation
Al-Sha'bi (may Allah have mercy on him) narrated 'Umar's guidelines for military expeditions.
Urdu Translation
سیدنا ابوجعفر انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”میں مصریوں کے ساتھ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ جب انہیں مارا تو میں بھاگا۔ مسجد پہنچا تو ایک آدمی بیٹھا تھا، سیاہ عمامہ پہنے، دس افراد کے درمیان۔ اس نے پوچھا: کیا ہوا؟“میں نے کہا:”اللہ کی قسم! معاملہ ختم ہو گیا۔“اس نے فرمایا:”تم پر افسوس ہو آخر زمانے والو!“وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 4115]
