Arabic (Original)
نا ناابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الأَلْهَانِيِّ، عَنْأَشْيَاخِهِ، قَالَ: ذُكِرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ:" إِنَّعَبْدِي كُلَّ عَبْدِي الَّذِي يَذْكُرُنِي، وَإِنْ كَانَ مُكَافِئًا قِرْنَهُ"، فَسَمِعَهَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَعَقَدَ عَلَيْهَا حَتَّى إِذَا قَدِمَ النَّاسُ الشَّامَ انْبَعَثَ فِي سَرِيَّةٍ وَهُمْ رِجَالٌ عَلَى أَقْدَامِهِمْ، فَأَبْطَأَ عَنْ أَصْحَابِهِ يُصَلِّي، وَهَبَطَ إِلَيْهِ عِلْجٌ مِنَ الرُّومِ عَلَى كَوْدَنٍ شَاكِ السِّلاحِ يُرِيدُهُ، فَجَاءَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ كَرْمٌ لَهُ سِيَاجٌ أُمُّ غَيْلانَ الشَّوْكُ، فَرَبَطَ الْعِلْجُ فَرَسَهُ، ثُمَّ شَقَّقَ إِلَيْهِ الْكَرْمَ يَتَهَدَّدُهُ , حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ إِلا السِّيَاجُ، وَالرَّجُلُ يَذْكُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَثْرَةُ ذِكْرِهِ لَمْ يَشْغَلْهُ تَهَدُّدُ عَدُوِّهِ إِيَّاهُ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ قَدْ ضِقْتُ بِهِ ذَرْعًا , فَاكْفِنِيهِ، فَنَظَرَ الرُّومِيُّ فُرْجَةً مِنَ السِّيَاجِ فَذَهَبَ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِ مِنْهَا، فَنَشِبَ الشَّوْكُ بِكُمِّ يَدِهِ فَعَالَجَ طَوِيلا لِيَتَخَلَّصَ مِنْهَا، فَذَهَبَ لِيُخَلِّصَ كُمَّهُ الأَيْمَنَ، فَقَبَضَ الشَّوْكُ عَلَيْهِ، فَرَبَطَهُ اللَّهُ رَبْطًا، فَلَمَّا رَآهُ الْمُسْلِمُ مَضَى إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى الْعِلْجُ الْمُسْلِمَ قَدْ أَقْبَلَ إِلَيْهِ جَعَلَ يَنْخِرُ، وَهُوَ فِي ذَلِكَ قَدْ أَثْبَتَهُ اللَّهُ فَلَمْ يَتَخَلَّصْ إِلَيْهِ الرَّجُلُ حَتَّى وَجَأَ نَفْسَهُ بِخِنْجَرٍ كَانَ مَعَهُ، فَوَقَعَ , فَجَعَلَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ يَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ أَنْتَ قَتَلْتَهُ ثُمَّ سَلَبَهُ سِلاحَهُ وَثِيَابَهُ، وَحَمَلَهُ اللَّهُ عَلَى فَرَسِهِ.
English Translation
Al-Sha'bi (may Allah have mercy on him) said: "A Muslim judge must give the dhimmi the same rights as a Muslim in legal disputes."
Urdu Translation
سیدنا محمد بن زیاد الالہانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اللہ فرماتا ہے: میرا بندہ، پورا بندہ وہ ہے جو مجھے یاد کرے، اگرچہ اپنے حریف سے برسرپیکار ہو۔“ایک مسلمان نے یہ حدیث سنی اور اسے یاد رکھا، جب لوگ شام پہنچے تو وہ ایک سریہ میں شامل ہوا اور پیدل تھا، راستے میں ایک رومی اس پر حملہ آور ہوا، درمیان میں ایک انگور کا باغ تھا جس کا باڑھ کانٹوں سے بھرا تھا۔ رومی کا گھوڑا باندھ کر اس نے باغ کا باڑ عبور کیا لیکن مسلمان اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ دشمن کے قریب آ گیا۔ رومی کا آستین کانٹوں میں الجھ گیا اور اللہ نے اسے روک دیا۔ مسلمان نے قریب جا کر رومی کو دیکھا تو وہ نکلنے کی کوشش میں ناکام رہا یہاں تک کہ رومی نے خود کو خنجر مار کر ہلاک کر لیا۔ مسلمان اللہ کا ذکر کرتا اور اس کا شکر ادا کرتا رہا اور کہا:”اے اللہ! تو نے اسے قتل کیا۔“پھر اس کا ہتھیار اور کپڑے لے لیے اور اللہ نے اسے اس کے گھوڑے پر سوار کر دیا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 4054]
