Arabic (Original)
ناعِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَعَنْعَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ،" أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا فَرَغَ مِنْ قِتَالِ بَدْرٍ عَلَى فَرَسٍ حَمْرَاءَ، مَعْقُودَ النَّاصِيَةِ قَدْ عَصَبَ ثَنِيَّتَهُ الْغُبَارُ، عَلَيْهِ دِرْعُهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّاللَّهَ بَعَثَنِي إِلَيْكَ، وَأَمَرَنِي أَنْ لا أُفَارِقَ حَتَّى تَرْضَى، أَفَرَضِيتَ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
English Translation
'Umar (may Allah be pleased with him) ruled that Muslims and non-Muslims do not inherit from each other.
Urdu Translation
سیدنا عطیہ بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب بدر کی جنگ مکمل ہو گئی تو جبرائیل علیہ السلام سرخ گھوڑے پر سوار ہو کر، جس کی پیشانی کے بال گندھے ہوئے تھے اور گرد و غبار نے ان کی دونوں کنپٹیاں ڈھانپ رکھی تھیں اور ان پر زرہ تھی، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آئے اور کہا:”اے محمد! اللہ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس وقت تک آپ سے جدا نہ ہوں جب تک آپ راضی نہ ہو جائیں، کیا آپ راضی ہو گئے؟“آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 4049]
