Arabic (Original)
نايَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَعَنْعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: جِيءَ بِثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ أَسِيرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ أَنْ نَقْتُلَكَ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ نَفْدِيَكَ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ نَعْتِقَكَ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُسْلِمَ"، فَقَالَ: إِنْ تَصِلْ تَصِلْ عَظِيمًا، وَإِنْ تُفَادِ تُفَادِ عَظِيمًا، وَإِنْ تُعْتِقْ تُعْتِقْ عَظِيمًا، وَإِنْ أُسْلِمْ قَسْرًا فَلا، فَأَعْتَقَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَسْلَمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لا تُحْمَلُ إِلَى قُرَيْشٍ حَبَّةٌ وَلا تَمْرَةٌ حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَكَتَبَتْ قُرَيْشٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ بِأَرْحَامِهَا، وَتَقُولُ: إِنَّكَ تَأْمُرُ بِصِلَةِ الرَّحِمِ، وَقَدْ هَلَكْنَا وَهَلَكَ عِيَالاتُنَا، فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ثُمَامَةَ" أَنْ تَدَعَ لِحَرَمِ اللَّهِ وَأَمْنِهِ مَادَّتَهُمْ، وَأَنْ لا تَحْمِيَ عَلَيْهِمْ"، فَحَمَلَ إِلَيْهِمْ.
English Translation
Thumamah ibn Uthal was brought as a captive to the Messenger of Allah (peace be upon him). The Prophet said: "If you wish, we will kill you; if you wish, we will ransom you; if you wish, we will release you without ransom; or if you wish, accept Islam." Thumamah said: "If you show kindness, you show it to a grateful person." Eventually he accepted Islam.
Urdu Translation
ثمامہ بن اثال کو قید کر کے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس لایا گیا۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر چاہو تو قتل کر دیں گے، اگر چاہو تو فدیہ لے کر چھوڑ دیں گے، اگر چاہو تو بغیر فدیہ کے آزاد کر دیں گے، یا اگر چاہو تو اسلام قبول کر لو۔“ثمامہ نے جواب دیا:”اگر تم صلہ کرو تو بڑے شخص پر صلہ کرو گے، اگر فدیہ لو گے تو بڑے آدمی کا فدیہ لو گے، اگر آزاد کرو گے تو بڑے آدمی کو آزاد کرو گے، اور اگر زبردستی مسلمان کرنے کی کوشش کرو گے تو میں نہیں مانوں گا۔“پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اسے آزاد کر دیا، بعد میں سیدنا ثمامہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا اور کہا:”اے اللہ کے رسول! اب قریش کی طرف کوئی گیہوں یا کھجور نہیں جائے گی جب تک اللہ اور اس کا رسول اجازت نہ دیں۔“قریش نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو خط لکھ کر رحم کی درخواست کی اور کہا:”آپ تو صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں، ہم تباہ ہو گئے ہیں اور ہمارے اہل و عیال بھی۔“تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدنا ثمامہ رضی اللہ عنہ کو لکھا:«حرم الله (یعنی مکہ) اور اس کی امانت کے لیے ان کا سامان جانے دو، اور ان پر پابندی نہ لگاؤ۔»چنانچہ سیدنا ثمامہ رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے غلہ بھیج دیا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3790]
