Arabic (Original)
نا نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: خَرَجْتُ فِي جَيْشٍ فِيهِ سُلَيْمَانُ،فَحَاصَرْنَا قَصْرًا فَأَمَّنَّاهُمْ، وَفَتَحْنَا الْقَصْرَ، وَخَلَّفْنَا فِيهِ صَاحِبًا لَنَا مَرِيضًا، ثُمَّ ارْتَحَلْنَا، فَجَاءَ بَعْدَنَا جَيْشٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، وَلَمْ يَعْلَمُوا بَأَمَانِنَا، فَقَالُوا لَهُمْ: إِنَّ أَصْحَابَكُمْ قَدْ آمَنُونَا، فَلَمْ يَقْبَلُوا ذَلِكَ مِنْهُمْ، فَفَتَحُوا الْقَصْرَ عَنْوَةً، وَقَتَلُوا الرَّجُلَ الْمَرِيضَ، ثُمَّ حَمَلُوا الذُّرِّيَّةَ حَتَّى أَتَوْا بِهِمْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ الْعَسْكَرَ، فَقَالَ لَهُمْ سَلْمَانُ:" احْمِلُوا الذُّرِّيَّةَ فَرَدُّوهَا إِلَى الْقَصْرِ، وَأَمَّا الدَّمَ فَيَقْضِي فِيهِ عُمَرُ".
English Translation
'Abd al-Rahman ibn Yazid said: "We went out in an army in which Salman al-Farisi (may Allah be pleased with him) was present. We besieged a fortress and granted its people safety. We left behind a sick companion. Then another army came and took the fortress by force. Our sick companion protested, so they brought the matter to Salman, who confirmed the safety pledge and returned the captives."
Urdu Translation
عبد الرحمن بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم ایک لشکر میں نکلے جس میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ہم نے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا اور اہل قلعہ کو امان دی۔ ایک بیمار ساتھی کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ بعد میں ایک اور لشکر آیا جس نے امان کا علم نہ ہونے کی وجہ سے قلعہ کو بزور طاقت لیا اور بیمار ساتھی کو شہید کر دیا۔ جب یہ خبر سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے حکم دیا کہ عورتوں اور بچوں کو قلعہ واپس کر دو، اور خون کا فیصلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کریں گے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3779]
