Arabic (Original)
نا نا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: أَتَانَا كِتَابُعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِوَنَحْنُ بِخَانِقِينَ لِهِلالِ رَمَضَانَ مِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ" أَنَّالأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَكْبَرُ مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ نَهَارًا، فَلا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالأَمْسِ، وَإِذَا حَاصَرْتُمْ أَهْلَ حِصْنٍ، فَأَرَادُوكُمْ عَلَى أَنْ تُنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ فَلا تُنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، فَإِنَّكُمْ لا تَدْرُونَ مَا حُكْمُ اللَّهِ فِيهِمْ، وَلَكِنْ أَنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ، ثُمَّ احْكُمُوا فِيهِمْ مَا شِئْتُمْ، وَإِذَا قُلْتُمْ لا بَأْسَ أَوْ لا تَدْهَلْ أَوْ مَتْرَسْ فَقَدْ آمَنْتُوهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ الأَلْسِنَةَ".
English Translation
Abu Wa'il Shaqiq ibn Salamah (may Allah have mercy on him) said: "The letter of 'Umar ibn al-Khattab came to us at Khaniqin at the beginning of Ramadan — some of us were fasting and some were not, and neither group criticized the other. The letter stated: 'The crescents vary in size. If you see the crescent during the day, do not break your fast until two witnesses testify they saw it the previous evening. And if you besiege a fortress and the people ask you to bring them down on the judgment of Allah, do not do so, for you do not know what Allah's judgment upon them is — rather bring them down on your own judgment, then decide about them as you see fit. And if you say la ba's, or la tadhal, or matras, then you have given them safety, for Allah knows all languages.'"
Urdu Translation
سیدنا ابو وائل شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خط خانقین میں رمضان کے چاند کے بارے میں آیا، کچھ روزے سے تھے اور کچھ افطار کیے ہوئے، لیکن کسی نے دوسرے پر اعتراض نہ کیا۔ خط میں تھا:”جب دن میں چاند دیکھو تو روزہ نہ توڑو جب تک دو گواہ نہ دیں کہ انہوں نے کل چاند دیکھا تھا۔ اور جب کسی قلعہ والوں سے محاصرہ کے وقت کہا جائے کہ انہیں اللہ کے حکم پر اتارو، تو انہیں اپنے فیصلے پر اتارو کیونکہ تم نہیں جانتے اللہ کا ان پر کیا حکم ہے۔ اور اگر تم کہو«لا بأس»یا«لا تدخل»یا«مطرس»تو یہ امان ہے، کیونکہ اللہ زبانوں کو جانتا ہے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3776]
