Arabic (Original)
نا نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، قَالَ: كَانَتْ تُسْتَرُ صُلْحًا وَكَفَرَ أَهْلُهَا، فَغَزَاهُمُ الْمُهَاجِرُونَ، فَأَصَابَ الْمُسْلِمُونَ نِسَاءَهُمْ حَتَّى وَلَدْنَ لَهُمْ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أَوْلادِهِمْ مِنْهُمْ،" فَأَمَرَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَنْ سَمَّى مِنْهُمْ فَرَدُّوهُمْ عَلَى جِزْيَتِهِمْ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ سَادَتِهِمْ".
English Translation
'Ata al-Khurasani (may Allah have mercy on him) said: "Tustar was initially conquered by treaty. Then its people reverted to disbelief. The Muhajirun fought them and took their women, who bore them children. 'Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) ordered those who could be identified to be returned to their jizya status, and separated them from their masters."
Urdu Translation
عطا خراسانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: تستر صلح سے فتح ہوا تھا، پھر اہل تستر نے دوبارہ کفر اختیار کر لیا۔ مہاجرین نے ان پر حملہ کیا اور ان کی عورتوں سے نکاح کر لیا، یہاں تک کہ ان سے بچے بھی پیدا ہو گئے۔ میں نے ان کے بچے دیکھے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ جن کی پہچان ہو سکے انہیں واپس ان کے جزیہ پر کر دیا جائے اور ان کو ان کے آقاؤں سے جدا کر دیا جائے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3765]
