Arabic (Original)
نا نا أَبُو الْحَتْرُوشِ شَمْلَةُ بْنُ هَزَّالٍ، قَالَ: نا قَتَادَةُ، أَسْنَدَ الْحَدِيثَ إِلَىعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ بَرِيدٌ يَخْتَلِفُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَلَكِ الرُّومِ، وَأَنَّ امْرَأَةَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَقْرَضَتْ دِينَارًا، فَاشْتَرَتْ بِهِ عِطْرًا، فَجَعَلَتْ فِي قَوَارِيرَ، فَبَعَثَتْ بِهِ مَعَ الْبَرِيدِ إِلَى امْرَأَةِ مَلِكِ الرُّومِ، فَمَا أَتَاهَا بِهِ فَرَّغَتْهُنَّ، وَمَلأَتْهُنَّ جَوْهَرًا، وَقَالَتْ: اذْهَبْ بِهِ إِلَى امْرَأَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ، فَلَمَّا أَتَاهَا بِهِ فَرَّغَتْهُنَّ عَلَى بِسَاطٍ لَهَا، فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى تَفِيئَةِ ذَلِكَ، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا هَذِهِ؟!" قَالَتْ: إِنِّياسْتَقْرَضْتُ مِنْ فُلانٍ دِينَارًا، فَاشْتَرَيْتُ بِهِ عِطْرًا، فَجَعَلْتُهُ فِي قَوَارِيرَ، وَبَعَثْتُ بِهِ، تَعْنِي مَعَ بَرِيدِكَ، إِلَى امْرَأَةِ مَلِكِ الرُّومِ فَأَرْسَلَتْ بِهِ إِلَيَّ، فَقَالَ عُمَرُ عِنْدَ ذَلِكَ:" يَا فُلانُ! خُذْ هَذَا فَاذْهَبْ بِهِ، فَبِعْهُ، فَاقْضِ بِهِ فُلانًا دِينَارًا، وَاجْعَلْ بَقِيَّتَهُ فِي بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ، لَيْسَ آلُ عُمَرَ أَحَقَّ بِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
English Translation
Qatadah reported with his chain going back to 'Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) that his emissary would tell the people: "Accept Islam, and if not, then pay the jizyah, and if not, then the sword."
Urdu Translation
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سند کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تک حدیث پہنچائی کہ آپ کا ایک قاصد تھا جو آپ اور روم کے بادشاہ کے درمیان پیغام رسانی کرتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کسی سے ایک دینار قرض لیا اور اس سے خوشبو خرید کر شیشیوں میں بھر کر قاصد کے ہاتھ روم کے بادشاہ کی بیوی کو بھجوایا۔ جب قاصد وہاں پہنچا تو اس کی بیوی نے خوشبو نکال لی اور شیشیوں کو قیمتی جواہرات سے بھر کر واپس کر دیا، اور کہا:”یہ امیر المؤمنین عمر کی بیوی کو دے دینا۔“جب یہ شیشیاں واپس آئیں تو عمر رضی اللہ عنہ گھر میں داخل ہوئے اور وہ شیشیاں دیکھیں تو فرمایا:”اے عورت! یہ کیا ہے؟“انہوں نے جواب دیا:”میں نے فلاں شخص سے دینار ادھار لیا، خوشبو خریدی، شیشیوں میں بھری اور قاصد کے ذریعے روم کے بادشاہ کی بیوی کو بھیجی، تو اس نے یہ جواہرات بھیج دیے ہیں۔“سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”اے فلاں! یہ لے جا، انہیں فروخت کر، قرض چکاؤ اور باقی مال بیت المال میں جمع کرا دو، عمر کے گھر والے مسلمانوں سے زیادہ اس کے حق دار نہیں۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3654]
