Arabic (Original)
نا نا هُشَيْمٌ، أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَىابْنِ عَبَّاسٍفِي صَدْرِ النَّهَارِ فَوَجَدْنَاهُ صَائِمًا ثُمَّ رُحْنَا إِلَيْهِ بِالْعَشِيِّ فَوَجَدْنَاهُ مُفْطِرًا، فَقُلْنَا لَهُ:أَلَمْ تَكُ صَائِمًا؟ قَالَ:" بَلَى، وَلَكِنَّ جَارِيَةً لِي أَتَتْ عَلَيَّ فَأَعْجَبَتْنِي، فَأَصَبْتُ مِنْهَا، وَإِنَّمَا هُوَ تَطَوُّعٌ وَسَأَقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ، وَأَزِيدُكُمْ أَنَّهَا كَانَتْ بَغِيًّا فَحَصَّنْتُهَا، وَإِنَّهُ قَدْ عَزَلَ عَنْهَا". قَالَ سَعِيدٌ: فَعَلِمْنَا أَرْبَعَةَ أَشْيَاءَ فِي حَدِيثٍ وَاحِدٍ.
English Translation
Sa'id ibn Jubayr reported: We visited Ibn Abbas in the morning and found him fasting. Then we returned in the evening and found him not fasting. We asked him about it. He said: "Indeed, a slave girl of mine came to me and I was attracted to her, so I was intimate with her. It was a voluntary fast and I shall make it up on another day. I also tell you that she was a woman of ill repute, so I took her in and protected her, and I also practiced withdrawal (azl) with her." Sa'id said: "We learned four legal rulings from one narration."
Urdu Translation
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا:”ہم دن کے ابتدائی حصے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے تو وہ روزے سے تھے، پھر شام کو گئے تو وہ افطار کر چکے تھے، ہم نے پوچھا: کیا آپ روزے سے نہیں تھے؟ فرمایا: کیوں نہیں، مگر میری ایک لونڈی آئی، وہ مجھے پسند آ گئی تو میں نے اس سے مباشرت کی، اور یہ نفل روزہ تھا، جسے میں قضا کر لوں گا، اور میں تمہیں مزید بتاؤں کہ وہ پہلے بدکارہ تھی، تو میں نے اسے نکاح میں لا کر پاک کر لیا، اور میں نے اس سے مباشرت کے وقت عزل بھی کیا۔“سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا:”ہم نے اس ایک حدیث سے چار مسئلے سیکھے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3218]
