Arabic (Original)
نَاسُفْيَانُ، عَنْأَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْزَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْنَاعَلِيًّارَضِيَ اللَّهُ عَنْهُبِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ؟ قَالَ:" بِأَرْبَعٍ: إِنَّهُ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَلا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانَ، وَلا يَجْتَمِعُ مُسْلِمٌ وَمُشْرِكٌ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا فِي الْحَجِّ، وَمَنْ كَانَ لَهُ عَهْدٌ فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَهْدٌ فَأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ".
English Translation
Ali (may Allah be pleased with him) was asked: With what were you sent? He said: 'With four things: No soul shall enter Paradise except a believing one; no one shall circumambulate the House naked; no Muslim and polytheist shall gather together in Hajj after this year of theirs; and whoever has a treaty, his treaty lasts until its term, and whoever has no treaty has four months.'
Urdu Translation
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: چار باتوں کے ساتھ؛ کہ جنت میں صرف مؤمن جان ہی داخل ہو سکتی ہے، بیت اللہ کا طواف کوئی عریاں نہیں کرے گا، اس سال کے بعد مسلمان اور مشرک اکٹھے حج نہیں کریں گے، اور جس کا کوئی عہد ہے تو اس کا عہد اپنی مدت تک برقرار ہے، اور جس کا کوئی عہد نہیں تو اس کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1005]
