Arabic (Original)
وعن أبي سروعة -كسر السين المهملة ونصبها- عقبة بن الحارث رضي الله عنه أنه تزوج ابنة لأبي إهاب بن عزيز، فأتته امرأة فقالت: إنى قد أرضعت عقبة والتى قد تزوج بها، فقال لها عقبة: ما أعلم أنك أرضعتني ولا أخبرتني فركب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينة فسأله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “كيف، وقد قيل؟!” ففارقها عقبة ونكحت زوجاً غيره”. ((رواه البخاري)).
English Translation
'Uqbah bin Al-Harith (may Allah be well pleased with him) reported that he had married a daughter of Abu Ihab bin 'Aziz and a woman came to him and said she had suckled both 'Uqbah and the woman whom he had married, to which he replied:"I am not aware that you suckled me, and you did not inform me." So he ('Uqbah) rode to Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) in Al-Madinah and put the matter before him. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "How can you continue (to be her husband) after what you have been told?" 'Uqbah (may Allah be well pleased with him) therefore divorced her and she married another man..
Urdu Translation
حضرت ابو سروعہ عقبہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ابو اِہاب بن عزیز کی بیٹی سے نکاح کیا، تو ایک عورت آئی اور کہا: میں نے عقبہ اور جس سے اس نے نکاح کیا ہے دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ عقبہ نے اس سے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ تم نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ تم نے مجھے بتایا۔ پھر وہ سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مدینہ آئے اور پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (اب) کیسے رکھ سکتے ہو جبکہ (رضاعت کی) بات کہی جا چکی ہے؟ تو عقبہ نے اسے چھوڑ دیا اور وہ (عورت) کسی اور سے نکاح کر لی۔ (بخاری)
