Arabic (Original)
وعن أبي هبيرة عائذ بن عمرو المزني وهو من أهل بيعة الرضوان رضي الله عنه، أن أبا سفيان أتى على سلمان وصهيب وبلال في نفر فقالوا: ما أخذت سيوف الله من عدو الله مأخذها، فقال أبو بكر رضي الله عنه: أتقولون هذا لشيخ قريش وسيدهم؟ فأتى النبي صلى الله عليه وسلم، فأخبره فقال: "يا أبا بكر لعلك أغضبتهم؟ لئن كنت أغضبتهم لقد أغضبت ربك" فأتاهم فقال: ياإخوتاه أغضبتكم؟ قالوا: لا، يغفر الله لك يا أخي. ((رواه مسلم)).
English Translation
'Aidh bin 'Amr Al-Muzani (may Allah be well pleased with him) reported:Abu Sufyan passed by Hadrat Salman, Suhaib and Hadrat Bilal and some other Companions (may Allah be well pleased with them). They said to him: "Did not the swords of Allah exact their due from the foes of Allah?" Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him) said to them: "Do you speak like this to the chief of the Quraish and their master?" Then he went to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and related this to him. He (blessings and peace of Allah be upon him) said, "Hadrat Abu Bakr, perhaps you have angered them. If so, you have angered your Rubb". Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him) went back to them and said: "Brothers, did I offend you?" They replied: "No. May Allah forgive you, brother"..
Urdu Translation
حضرت ابوہبیرہ عائذ بن عمرو مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوسفیان حضرت سلمان، حضرت صہیب اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور کچھ اصحاب کے پاس سے گزرے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی تلواروں نے اللہ کے دشمن سے ابھی اپنا حق پورا نہیں لیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تم قریش کے بزرگ اور سردار سے ایسا کہتے ہو؟ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور بتایا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حضرت ابوبکر! شاید تم نے انہیں ناراض کیا ہے؟ اگر تم نے انہیں ناراض کیا ہے تو تم نے اپنے رب کو ناراض کیا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس گئے اور کہا: بھائیو! کیا میں نے تمہیں ناراض کیا؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ تمہیں معاف فرمائے اے بھائی!
