Arabic (Original)
عَنْ أَبِي نَجِيحٍ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: "وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم مَوْعِظَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَأَوْصِنَا، قَالَ: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ؛ فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ". وَقَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
English Translation
On the authority of Abu Najih al-'Irbad ibn Sariyah (may Allah be well pleased with him), who said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) gave us a sermon that made hearts tremble and eyes shed tears. We said: "O Beloved Messenger of Allah, it is as though this is a farewell sermon, so counsel us." He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "I counsel you to have consciousness of Allah (taqwa), and to hear and obey even if a slave is placed in authority over you. For verily, whoever among you lives long will see great disagreement. So hold fast to my Sunnah and the way of the rightly-guided Caliphs; cling to it firmly with your molar teeth. And beware of newly invented matters, for verily every innovation (bid'ah) is misguidance." Related by at-Tirmidhi, who said it is a good and sound hadith.
Urdu Translation
حضرت ابو نجیح عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسا وعظ فرمایا کہ اس سے دل کانپ گئے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو گویا رخصت ہونے والے کی نصیحت ہے، لہٰذا ہمیں وصیت فرمائیے۔ ارشاد فرمایا: میں تمہیں اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں، اور سنو اور اطاعت کرو خواہ تم پر کوئی غلام ہی امیر بنادیا جائے۔ بے شک تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، پس تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو، اسے داڑھوں سے مضبوطی سے تھام لو، اور نئی ایجاد کردہ باتوں سے بچو، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور فرمایا: یہ حدیثِ حسن صحیح ہے۔
