Arabic (Original)
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَىُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَتَمَةَ إِمَامًا أَوْ خِلْوًا قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْعَتَمَةِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ الصَّلاَةَ الصَّلاَةَ قَالَ عَطَاءٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ قَالَ وَأَشَارَ فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ فَأَوْمَأَ إِلَىَّ كَمَا أَشَارَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ بِشَىْءٍ مِنْ تَبْدِيدٍ ثُمَّ وَضَعَهَا فَانْتَهَى أَطْرَافُ أَصَابِعِهِ إِلَى مُقَدَّمِ الرَّأْسِ ثُمَّ ضَمَّهَا يَمُرُّ بِهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامَاهُ طَرَفَ الأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ ثُمَّ عَلَى الصَّدْغِ وَنَاحِيَةِ الْجَبِينِ لاَ يَقْصُرُ وَلاَ يَبْطُشُ شَيْئًا إِلاَّ كَذَلِكَ ثُمَّ قَالَ " لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ أَنْ لاَ يُصَلُّوهَا إِلاَّ هَكَذَا " .
English Translation
It is narrated that Hadrat Ibn Juraij (may Allah be well pleased with him) said: "I said to 'Ata': 'What is the best time you think I should pray Al-'Atamah, either in congregation or on my own?' He said: 'I heard Hadrat Ibn 'Abbas say: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) delayed Al-'Atamah one night until the people had slept and woken up, then slept and woken up again. Then 'Umar got up and said: 'The prayer, the prayer!'" 'Ata' said: Hadrat 'Ibn 'Abbas said: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came out, and it is as if I can see him now, with water dripping from his head, putting his hand on the side of his head. [He said: "And he indicated (how)"].'" I checked with 'Ata' how the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) put his hand on his head, and he showed me the same way as Hadrat Ibn 'Abbas had done. 'Ata' spread his fingers a little, then placed them with the tips of his fingers on his forehead, then he drew his fingers together on his head until his thumb touched the edge of the ear that is next to the face, then moved it to his temple and forehead, then he said: 'Were it not that I would impose too much difficulty for my Ummah, I would have commanded them to offer this prayer only at this time
Urdu Translation
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا: عشاء کی امامت کرنے یا تنہا پڑھنے کے لیے کون سا وقت آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو کہتے سنا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء مؤخر کی یہاں تک کہ لوگ سو گئے، ( پھر ) بیدار ہوئے ( پھر ) سو گئے، ( پھر ) بیدار ہوئے، تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھے اور کہنے لگے: صلاۃ! صلاۃ! تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے نکلے۔ گویا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور آپ اپنا ہاتھ سر کے ایک حصہ پر رکھے ہوئے تھے۔ راوی ( ابن جریج ) کہتے ہیں: میں نے عطاء سے جاننا چاہا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر کیسے رکھا؟ تو انہوں نے مجھے اشارہ کے ذریعہ بتایا جیسا کہ حضرت ابن عباس نے انہیں اشارہ سے بتایا تھا، عطاء نے اپنی انگلیوں کے درمیان تھوڑا فاصلہ کیا، پھر اسے رکھا یہاں تک کہ ان کی انگلیوں کے سرے سر کے اگلے حصہ تک پہنچ گئے، پھر انہیں ملا کر سر پر اس طرح گزارتے رہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں انگوٹھے کان کے کناروں کو جو چہرہ سے ملا ہوتا ہے چھو لیتے، پھر کنپٹی اور پیشانی کے کناروں پر پھیرتے، نہ دیر کرتے نہ جلدی سوائے اتنی تاخیر کے – پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں اپنی امت کے لیے دشوار نہیں سمجھتا تو انہیں حکم دیتا کہ وہ اسی قدر تاخیر سے عشاء پڑھیں ۔
