Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ . فَقَالَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُغَرَّمُ مَنْ لاَ شَرِبَ وَلاَ أَكَلْ وَلاَ نَطَقَ وَلاَ اسْتَهَلّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ " . مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ .
English Translation
It is narrated that Hadrat Abu Hurairah (may Allah be well pleased with him) said: "Two women of Hudhail had a fight, and one of them threw a rock at the other and killed her and the child in her womb. They referred the dispute to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ruled that the Diyah for her fetus was a male or female slave, and that the Diyah of the woman be paid by her 'Aqilah (male relatives on the father's side). And he made her children and those who were with them her heirs. Hamal bin Malik bin An-Nabighah Al-Hudhali submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), how can I pay blood money for one who neither ate nor drank, or shouted such a one should be over looked." The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: "This is one of the brothers of the soothsayers" because of the rhyming way in which he spoke
Urdu Translation
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہُذیل کی دو عورتوں نے آپس میں لڑائی کی، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا اور اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو قتل کر دیا۔ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ جنین کی دیت ایک غلام یا لونڈی (غُرّہ) ہے، اور عورت کی دیت قاتلہ کے عاقلہ (باپ کی طرف کے مرد رشتے داروں) پر ہے، اور اس کی میراث اس کے بیٹوں اور ان کے ساتھ والوں کو دلوائی۔ حضرت حمل بن مالک بن نابغہ ہُذلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس کی دیت کیسے دوں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ بولا، نہ چلایا، ایسے کا خون رائیگاں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تو کاہنوں کے بھائیوں میں سے ہے، اس کی مسجع بات کی وجہ سے۔
