Sunan an-Nasa'iThe Book of the Kind Treatment of Women#3944Sahih
Arabic (Original)
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ مَعِي فِي مِرْطِي فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ . وَأَنَا سَاكِتَةٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَىْ بُنَيَّةُ أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَنْ أُحِبُّ " . قَالَتْ بَلَى . قَالَ " فَأَحِبِّي هَذِهِ " . فَقَامَتْ فَاطِمَةُ حِينَ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَجَعَتْ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَتْهُنَّ بِالَّذِي قَالَتْ وَالَّذِي قَالَ لَهَا فَقُلْنَ لَهَا مَا نَرَاكِ أَغْنَيْتِ عَنَّا مِنْ شَىْءٍ فَارْجِعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُولِي لَهُ إِنَّ أَزْوَاجَكَ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ . قَالَتْ فَاطِمَةُ لاَ وَاللَّهِ لاَ أُكَلِّمُهُ فِيهَا أَبَدًا . قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً قَطُّ خَيْرًا فِي الدِّينِ مِنْ زَيْنَبَ وَأَتْقَى لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَصْدَقَ حَدِيثًا وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ وَأَعْظَمَ صَدَقَةً وَأَشَدَّ ابْتِذَالاً لِنَفْسِهَا فِي الْعَمَلِ الَّذِي تَصَدَّقُ بِهِ وَتَقَرَّبُ بِهِ مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حِدَّةٍ كَانَتْ فِيهَا تُسْرِعُ مِنْهَا الْفَيْأَةَ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا عَلَى الْحَالِ الَّتِي كَانَتْ دَخَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ وَوَقَعَتْ بِي فَاسْتَطَالَتْ وَأَنَا أَرْقُبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَرْقُبُ طَرْفَهُ هَلْ أَذِنَ لِي فِيهَا فَلَمْ تَبْرَحْ زَيْنَبُ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا بِشَىْءٍ حَتَّى أَنْحَيْتُ عَلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ " .
English Translation
Hadrat Aishah said: "The wives of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sent Hadrat Fatimah, the daughter of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). She asked permission to enter when he was lying with me under my cover. He gave her permission to enter, and she submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), your wives have sent me to you to ask you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafah.' I (Hadrat 'Aishah) kept quiet and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said to her: 'O my daughter! Do you not love the one whom I love?' She said: 'Yes.' He said: 'Then love this one.' Hadrat Fatimah stood up when she heard this and left the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and went back to the wives of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). She told them what she had said, and what he had said to her. They said to her: 'We do not think that you have been of any avail to us. Go back to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and say to him: Your wives are urging you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafah.' Hadrat Fatimah said: 'No, by Allah; I will never speak to him about her again.'" Hadrat 'Aishah said: "So the wives of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sent Hadrat Zainab bint Jahsh to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him); she was one who was somewhat equal to me in rank in the eyes of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). And I have never seen a woman who was better in religious commitment than Hadrat Zainab, more fearing of Allah, more honest in speech, more dutiful in upholding the ties of kinship, more generous in giving charity, and devoted in giving of herself in acts of charity, by means of which she sought to draw closer to Allah. But she was quick-tempered; however, she was also quick to calm down. She asked permission to enter upon the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) when he was with Hadrat 'Aishah under her cover, in the same situation as when Hadrat Fatimah had entered. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) gave her permission to enter and she submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), your wives have sent me to ask you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafah.' Then she verbally abused me at length, and I was watching the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) to see if he would allow me to respond. Hadrat Zainab went on until I realized that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) would not disapprove if I responded. Then I spoke back to her in such a way, until I silenced her. Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'She is the daughter of Hadrat Abu Bakr
Urdu Translation
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں نے فاطمہ بنت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا، انہوں نے آپ سے اجازت طلب کی، آپ میرے ساتھ چادر میں لیٹے ہوئے تھے، آپ نے انہیں اجازت دی، وہ بولیں: اللہ کے رسول! آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے وہ ابوقحافہ کی بیٹی ( حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ ) کے سلسلے میں آپ سے ۱؎ عدل کا مطالبہ کر رہی ہیں، اور میں خاموش ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: اے میری بیٹی! کیا تم اس سے محبت نہیں کرتیں جس سے مجھے محبت ہے؟ وہ بولیں: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: تو تم بھی ان سے محبت کرو، فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے جب یہ بات سنی تو اٹھیں اور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کے پاس واپس آ کر انہیں وہ ساری بات بتائی جو انہوں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کہی اور جو آپ نے ان ( فاطمہ ) سے کہی۔ وہ سب بولیں: ہم نہیں سمجھتے کہ تم نے ہمارا کام کر دیا، تم پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے کہو: آپ کی بیویاں آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے عدل کی اپیل کرتی ہیں۔ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں ان کے سلسلے میں آپ سے کبھی کوئی بات نہیں کروں گی۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: اب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زینب بنت جحش کو بھیجا اور زینب ہی ایسی تھیں جو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک میرے برابر کا درجہ رکھتی تھیں۔ میں نے کبھی بھی دین کے معاملے میں بہتر، اللہ سے ڈرنے والی، سچ بات کہنے والی، صلہ رحمی کرنے والی، بڑے بڑے صدقات کرنے والی، صدقہ و خیرات اور قرب الٰہی کے کاموں میں خود کو سب سے زیادہ کمتر کرنے والی زینب سے بڑھ کر کوئی عورت نہیں دیکھی سوائے اس کے کہ وہ مزاج کی تیز طرار تھیں لیکن ان کا غصہ بہت جلد رفع ہو جاتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ چادر میں اسی طرح تھے کہ جب فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کے پاس آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، وہ بولیں: اللہ کے رسول! آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ وہ سب ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے آپ سے عدل و انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں اور وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں اور خوب زبان درازی کی، میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہی تھی اور آپ کی نگاہ دیکھ رہی تھی کہ آیا آپ مجھے بھی ان کا جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں، زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ابھی وہیں پر تھیں کہ میں نے اندازہ کر لیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو برا نہیں لگے گا۔ چنانچہ جب میں نے انہیں برا بھلا کہا تو میں نے انہیں ذرا بھی ٹکنے نہیں دیا یہاں تک کہ میں ان سے آگے نکل گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ حضرت ابوبکر کی بیٹی ہے“۔
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ مَعِي فِي مِرْطِي فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ . وَأَنَا سَاكِتَةٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَىْ بُنَيَّةُ أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَنْ أُحِبُّ " . قَالَتْ بَلَى . قَالَ " فَأَحِبِّي هَذِهِ " . فَقَامَتْ فَاطِمَةُ حِينَ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَجَعَتْ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَتْهُنَّ بِالَّذِي قَالَتْ وَالَّذِي قَالَ لَهَا فَقُلْنَ لَهَا مَا نَرَاكِ أَغْنَيْتِ عَنَّا مِنْ شَىْءٍ فَارْجِعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُولِي لَهُ إِنَّ أَزْوَاجَكَ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ . قَالَتْ فَاطِمَةُ لاَ وَاللَّهِ لاَ أُكَلِّمُهُ فِيهَا أَبَدًا . قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً قَطُّ خَيْرًا فِي الدِّينِ مِنْ زَيْنَبَ وَأَتْقَى لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَصْدَقَ حَدِيثًا وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ وَأَعْظَمَ صَدَقَةً وَأَشَدَّ ابْتِذَالاً لِنَفْسِهَا فِي الْعَمَلِ الَّذِي تَصَدَّقُ بِهِ وَتَقَرَّبُ بِهِ مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حِدَّةٍ كَانَتْ فِيهَا تُسْرِعُ مِنْهَا الْفَيْأَةَ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا عَلَى الْحَالِ الَّتِي كَانَتْ دَخَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ وَوَقَعَتْ بِي فَاسْتَطَالَتْ وَأَنَا أَرْقُبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَرْقُبُ طَرْفَهُ هَلْ أَذِنَ لِي فِيهَا فَلَمْ تَبْرَحْ زَيْنَبُ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا بِشَىْءٍ حَتَّى أَنْحَيْتُ عَلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ " .
Hadrat Aishah said: "The wives of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sent Hadrat Fatimah, the daughter of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). She asked permission to enter when he was lying with me under my cover. He gave her permission to enter, and she submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), your wives have sent me to you to ask you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafah.' I (Hadrat 'Aishah) kept quiet and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said to her: 'O my daughter! Do you not love the one whom I love?' She said: 'Yes.' He said: 'Then love this one.' Hadrat Fatimah stood up when she heard this and left the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and went back to the wives of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). She told them what she had said, and what he had said to her. They said to her: 'We do not think that you have been of any avail to us. Go back to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and say to him: Your wives are urging you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafah.' Hadrat Fatimah said: 'No, by Allah; I will never speak to him about her again.'" Hadrat 'Aishah said: "So the wives of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sent Hadrat Zainab bint Jahsh to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him); she was one who was somewhat equal to me in rank in the eyes of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). And I have never seen a woman who was better in religious commitment than Hadrat Zainab, more fearing of Allah, more honest in speech, more dutiful in upholding the ties of kinship, more generous in giving charity, and devoted in giving of herself in acts of charity, by means of which she sought to draw closer to Allah. But she was quick-tempered; however, she was also quick to calm down. She asked permission to enter upon the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) when he was with Hadrat 'Aishah under her cover, in the same situation as when Hadrat Fatimah had entered. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) gave her permission to enter and she submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), your wives have sent me to ask you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafah.' Then she verbally abused me at length, and I was watching the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) to see if he would allow me to respond. Hadrat Zainab went on until I realized that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) would not disapprove if I responded. Then I spoke back to her in such a way, until I silenced her. Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'She is the daughter of Hadrat Abu Bakr
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں نے فاطمہ بنت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا، انہوں نے آپ سے اجازت طلب کی، آپ میرے ساتھ چادر میں لیٹے ہوئے تھے، آپ نے انہیں اجازت دی، وہ بولیں: اللہ کے رسول! آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے وہ ابوقحافہ کی بیٹی ( حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ ) کے سلسلے میں آپ سے ۱؎ عدل کا مطالبہ کر رہی ہیں، اور میں خاموش ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: اے میری بیٹی! کیا تم اس سے محبت نہیں کرتیں جس سے مجھے محبت ہے؟ وہ بولیں: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: تو تم بھی ان سے محبت کرو، فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے جب یہ بات سنی تو اٹھیں اور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کے پاس واپس آ کر انہیں وہ ساری بات بتائی جو انہوں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کہی اور جو آپ نے ان ( فاطمہ ) سے کہی۔ وہ سب بولیں: ہم نہیں سمجھتے کہ تم نے ہمارا کام کر دیا، تم پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے کہو: آپ کی بیویاں آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے عدل کی اپیل کرتی ہیں۔ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں ان کے سلسلے میں آپ سے کبھی کوئی بات نہیں کروں گی۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: اب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زینب بنت جحش کو بھیجا اور زینب ہی ایسی تھیں جو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک میرے برابر کا درجہ رکھتی تھیں۔ میں نے کبھی بھی دین کے معاملے میں بہتر، اللہ سے ڈرنے والی، سچ بات کہنے والی، صلہ رحمی کرنے والی، بڑے بڑے صدقات کرنے والی، صدقہ و خیرات اور قرب الٰہی کے کاموں میں خود کو سب سے زیادہ کمتر کرنے والی زینب سے بڑھ کر کوئی عورت نہیں دیکھی سوائے اس کے کہ وہ مزاج کی تیز طرار تھیں لیکن ان کا غصہ بہت جلد رفع ہو جاتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ چادر میں اسی طرح تھے کہ جب فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کے پاس آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، وہ بولیں: اللہ کے رسول! آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ وہ سب ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے آپ سے عدل و انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں اور وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں اور خوب زبان درازی کی، میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہی تھی اور آپ کی نگاہ دیکھ رہی تھی کہ آیا آپ مجھے بھی ان کا جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں، زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ابھی وہیں پر تھیں کہ میں نے اندازہ کر لیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو برا نہیں لگے گا۔ چنانچہ جب میں نے انہیں برا بھلا کہا تو میں نے انہیں ذرا بھی ٹکنے نہیں دیا یہاں تک کہ میں ان سے آگے نکل گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ حضرت ابوبکر کی بیٹی ہے“۔