Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلاً غَيْرَ مُدْبِرٍ أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَاىَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ " . فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ أَمَرَ بِهِ فَنُودِيَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَيْفَ قُلْتَ " . فَأَعَادَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ إِلاَّ الدَّيْنَ كَذَلِكَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ " .
English Translation
It is narrated from Hadrat 'Abdullah bin Abi Qatadah that his father (may Allah be well pleased with him) said: "A man came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), if I am killed in the cause of Allah with patience and seeking reward, facing the enemy and not running away, do you think that Allah will forgive my sins?' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Yes.' When the man turned away, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) called him back and said: 'What did you say?' He repeated his question, and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Yes, except debt. Jibril told me
Urdu Translation
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اس بارے میں کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جاؤں، اور حال یہ ہو کہ میں نے ثواب کی نیت سے جم کر جنگ لڑی ہو، آگے بڑھتے ہوئے نہ کہ پیٹھ دکھاتے ہوئے، تو کیا اللہ میرے گناہوں کو معاف کر دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“ پھر جب وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے آواز دے کر اسے بلایا۔ ( راوی کو شبہ ہو گیا بلایا ) یا آپ نے اسے بلانے کے لیے کسی کو حکم دیا۔ تو اسے بلایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ( اس سے ) کہا: ”تم نے کیسے کہا تھا“؟ تو اس نے آپ کے سامنے اپنی بات دہرا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، سوائے قرض کے سب معاف کر دے گا، جبرائیل علیہ السلام نے مجھے ایسا ہی بتایا ہے“۔
