Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْهُنَائِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَازِلاً بَيْنَ ضَجْنَانَ وَعُسْفَانَ مُحَاصِرَ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّ لِهَؤُلاَءِ صَلاَةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَبْكَارِهِمْ أَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ ثُمَّ مِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ نِصْفَيْنِ فَيُصَلِّيَ بِطَائِفَةٍ مِنْهُمْ وَطَائِفَةٌ مُقْبِلُونَ عَلَى عَدُوِّهِمْ قَدْ أَخَذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ فَيُصَلِّيَ بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ يَتَأَخَّرَ هَؤُلاَءِ وَيَتَقَدَّمَ أُولَئِكَ فَيُصَلِّيَ بِهِمْ رَكْعَةً تَكُونُ لَهُمْ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَكْعَةً رَكْعَةً وَلِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَانِ .
English Translation
Hadrat Abu Hurairah said: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was camping between Dajnan and 'Usfan, besieging the idolaters. The idolaters said: 'These people have a prayer that is dearer to them than their sons and daughters. Plan it, then strike them with a single heavy blow.' Jibril (blessings and peace of Allah be upon him), came and told the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) to divide his companions into two groups, then lead one group in prayer while the others faced the enemy, on guard and with weapons at the ready. So he led them in praying one rak'ah, then they moved back and the others moved forward, and he led them in praying on rak'ah, so that each one of them had prayed one rak'ah with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had prayed two rak'ahs
Urdu Translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ضجنان اور عسفان کے درمیان اترے آپ مشرکین کا محاصرہ کئے ہوئے تھے، مشرکین نے ( آپس میں ) کہا: ان لوگوں کی ایک ایسی نماز ہے جو انہیں اپنی اولاد اور اپنی بیویوں سے بھی زیادہ محبوب ہے، تو ایسا کرو تم سب تیار رہو ( جب یہ نماز پڑھنے لگیں ) تو یکبارگی ان پر پل پڑو، تو جبرائیل علیہ السلام ( آپ کے پاس ) آئے، اور انہوں نے آپ کو حکم دیا کہ آپ صحابہ کو دو حصوں میں بانٹ دیں، ان میں سے ایک گروہ کو آپ نماز پڑھائیں، اور ایک گروہ دشمن کے مقابل اپنے بچاؤ کی چیز اور اپنے ہتھیار لے کر کھڑا رہے، آپ انہیں ایک رکعت پڑھائیں، پھر یہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں، اور وہ لوگ آگے آ جائیں جو دشمن کے مقابل ہوں، تو پھر آپ انہیں ایک رکعت پڑھائیں، تو لوگوں کی نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو گی، اور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں ہوں گی۔
