Arabic (Original)
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُروة، عن حَكِيم بن حِزَام قال: قلت: يا رسول الله، رُقًى كنا نسترقي بها، وأدويةٌ كنا نتداوى بها، هل تردُّ من قَدَرِ الله؟ قال:"هو مِن قَدَرِ الله"(2).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ثم لم يخرجاه(1)، وقال مسلم في تصنيفه فيما أخطأ معمرٌ بالبصرة: إنَّ معمرًا حدَّث به مرتين، فقال مرةً: عن الزهري، عن ابن أبي خِزَامة، عن أبيه. وقال الحاكم: وعندي أنَّ هذا لا يُعلِّله، فقد تابع صالحُ بن أبي الأخضر معمرَ بن راشد في حديثه عن الزهري عن عروة، وصالحٌ وإن كان في الطبقة الثالثة من أصحاب الزهري، فقد يُستشهَد بمثله.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 87 - على شرطهما
English Translation
Hakim ibn Hizam (may Allah be pleased with him) narrated: "I asked: 'O Messenger of Allah, what about the incantations (ruqyah) we used for healing and the medicines we used for treatment — do they avert anything from the decree of Allah?' He said: 'They are part of the decree of Allah.'" Al-Hakim graded it sahih according to the criteria of both al-Bukhari and Muslim.
Urdu Translation
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جن منتروں (دم درود) سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں اور جن دواؤں سے ہم علاج کرتے ہیں، کیا وہ اللہ کی تقدیر میں سے کچھ ٹال سکتی ہیں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”وہ (دوا اور دعا) بھی اللہ کی تقدیر ہی میں سے ہے۔“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، امام مسلم نے معمر سے بصرہ میں ہونے والی غلطیوں کے بیان میں کہا ہے کہ معمر نے اسے دو بار روایت کیا، ایک بار«زهري عن ابن ابي خزامه عن ابيه»کی سند سے۔امام حاکم فرماتے ہیں: میرے نزدیک یہ کوئی علت نہیں ہے کیونکہ صالح بن ابی الاخضر نے معمر بن راشد کی متابعت کی ہے، اور صالح اگرچہ زہری کے شاگردوں کے تیسرے طبقے میں سے ہیں لیکن ان جیسے راویوں سے استشہاد کیا جا سکتا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 87]
