Arabic (Original)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان(3)، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن راشد بن سعد، عن عبد الرحمن بن قَتَادة السَّلَمي - وكان من أصحاب النبي ﷺ قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"خلقَ اللهُ آدمَ ثم خلقَ الخلقَ من ظَهرِه، ثم قال: هؤلاء للجنة ولا أُبالي، وهؤلاء للنار ولا أُبالي" قال: فقيل: يا رسول الله، فعلى ماذا نعملُ؟ قال:"على مُوَافقةِ القَدَر"(1).هذا حديث صحيح قد اتفقا على الاحتجاج برُوَاته عن آخرهم إلى الصحابة(2)، وعبد الرحمن بن قتادة من بني سَلِمة من الصحابة، وقد احتجَّا جميعًا بزهير بن عمرو(3)عن رسول الله ﷺ، وليس له راوٍ غيرُ أبي عثمان النَّهْدي، وكذلك احتجَّ البخاريُّ بحديث أبي سعيد بن المعلَّى، وليس له راوٍ غيرُ حفص بن عاصم.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 84 - على شرطهما إلى الصحابي
English Translation
'Abd al-Rahman ibn Qatadah al-Sulami (may Allah be pleased with him) — who was a Companion of the Prophet — narrated: "I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'Allah created Adam, then created all creation from his back, then said: These are for Paradise, and I do not care; and these are for the Fire, and I do not care.' Someone asked: 'O Messenger of Allah, then on what basis do we act?' He said: 'According to the decree of destiny.'" Al-Hakim graded it sahih.
Urdu Translation
سیدنا عبدالرحمن بن قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ - جو کہ صحابی رسولصلی اللہ علیہ وسلمہیں - سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے ہوئے سنا:”اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا پھر ان کی پشت سے (تمام) مخلوق کو پیدا کیا، پھر فرمایا: یہ لوگ جنت کے لیے ہیں اور مجھے (کسی کی) پرواہ نہیں، اور یہ لوگ دوزخ کے لیے ہیں اور مجھے (کسی کی) پرواہ نہیں۔“کسی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم (نیکی کے) عمل کیوں کرتے ہیں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تقدیر کے موافق ہونے کے لیے (یعنی جو مقدر ہے وہی ظاہر ہوگا)۔“یہ صحیح حدیث ہے، اس کے تمام راویوں سے صحابی تک احتجاج کرنے پر اتفاق ہے، اور عبدالرحمن بن قتادہ بنو سلمہ کے صحابی ہیں، ان دونوں نے زہیر بن عمرو عن رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے احتجاج کیا ہے جبکہ ان کا ابوعثمان نہدی کے سوا کوئی راوی نہیں، اسی طرح امام بخاری نے ابوسعید بن معلی کی حدیث سے احتجاج کیا ہے جن کا حفص بن عاصم کے سوا کوئی راوی نہیں ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 84]
