Arabic (Original)
حدثني علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد. وأخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي؛ قالا: حدثنا محمد بن أبي السَّرِيِّ العَسقَلَاني، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ثَوْر بن يزيد، عن خالد بن مَعْدان، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"إِنَّ للإسلام صُوًى(2)ومَنارًا كمَنارِ الطريق"(3).هذا حديث صحيح على شرط البخاري فقد روى عن محمد بن خلف العسقلاني(1)، واحتجَّ بثور بن يزيد الشامي، فأما سماعُ خالد بن مَعْدان عن أبي هريرة فغير مُستبدَع، فقد حكى الوليد بن مسلم عن ثور بن يزيد عنه أنه قال: لقيتُ سبعةَ عشرَ رجلًا من أصحاب رسول الله ﷺ. ولعلَّ متوهِّمًا يَتوهَّمُ أنَّ هذا متنٌ شاذٌّ، فليَنظُر في الكتابين ليجدَ من المتون الشاذَّة(2)التي ليس لها إلّا إسناد واحد ما يُتعجَّب منه، ثم ليَقِسْ هذا عليها. حديث آخر بهذا الإسناد(3):[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 52 - غير مستبدع لقي خالد أبا هريرة
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Indeed, Islam has signposts and landmarks like the landmarks of a road." Al-Hakim graded it sahih according to the criteria of al-Bukhari.
Urdu Translation
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بے شک اسلام کے کچھ نمایاں نشانات اور مینار ہیں جیسے راستے کے نشانات (اور مینار) ہوتے ہیں۔“یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے محمد بن خلف العسقلانی سے روایت کی ہے اور ثور بن یزید شامی سے احتجاج کیا ہے، رہا خالد بن معدان کا سیدنا ابوہریرہ سے سماع تو وہ بعید از قیاس نہیں ہے، کیونکہ ولید بن مسلم نے ثور بن یزید کے واسطے سے ان (خالد) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے سترہ اصحاب سے ملاقات کی ہے۔ اور اگر کسی کے وہم میں یہ بات آئے کہ یہ متن شاذ ہے، تو وہ ان دونوں کتابوں (بخاری و مسلم) میں دیکھے جہاں اسے ایسے شاذ متون ملیں گے جن کی صرف ایک ہی سند ہے اور وہ باعثِ تعجب ہیں، پھر وہ اس حدیث کو بھی انہی پر قیاس کر لے۔ اسی سند کے ساتھ ایک اور حدیث درج ذیل ہے:[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 52]
