Arabic (Original)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم أخبرنا ابن وهب، أخبرني سفيان الثَّوْري وأخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا أحمد بن سَيّار(1). وحدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا يوسف بن يعقوب؛ قالا: حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، عن ابن أبي نَجِيح، عن أبيه، عن ابن عباس قال: ما قاتلَ رسولُ الله ﷺ قومًا حتى دعاهم(2).هذا حديث صحيح من حديث الثوري، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّ مسلم بأبي نَجِيح والد عبد الله واسمه يسار، وهو من الموالي المكيين، وقد رُوِيَ عن علي بن أبي طالب عن رسول الله ﷺ بهذا اللفظ(3)، واتَّفقا جميعًا على إخراج حديث عبد الله بن عَوْن: كتبتُ إلى نافع مولى ابن عمر أسألُه عن القتال قبلَ الدعاء، فكَتَبَ إليَّ: أنَّ رسول الله ﷺ أغارَ على بني المُصطَلِق … الحديث، وفيه: وكان الدعوةُ قبل القتال(4).[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 37 - احتج مسلم بأبي نجيح يسار المكي
English Translation
Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) never fought a people until he had invited them (to Islam)." Al-Hakim graded it sahih from the hadith of al-Thawri.
Urdu Translation
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے کبھی کسی قوم سے قتال نہیں فرمایا جب تک کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں (پہلے اسلام کی) دعوت نہ دے لی ہو۔یہ امام ثوری کی روایت سے صحیح حدیث ہے، لیکن ان دونوں نے اسے نقل نہیں کیا، حالانکہ امام مسلم نے ابونجیح (جو عبداللہ کے والد ہیں اور ان کا نام یسار ہے) سے احتجاج کیا ہے، وہ مکی موالی میں سے ہیں۔ اور یہی حدیث انہی الفاظ کے ساتھ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے عبداللہ بن عون کی اس حدیث کی تخریج پر اتفاق کیا ہے کہ (وہ کہتے ہیں) میں نے ابن عمر کے مولیٰ نافع کو خط لکھا اور ان سے قتال سے پہلے دعوتِ اسلام کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے مجھے لکھا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے بنو مصطلق پر حملہ کیا... اور اس میں یہ ذکر ہے کہ قتال سے پہلے دعوت دی گئی تھی۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 37]
