Arabic (Original)
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم الدارَبردي بمَرْو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو مَعمَر، حدثنا عبد الوارث، عن الحسين، عن ابن بُرَيدة: أنَّ معاوية خرج من حمَّام حِمْص، فقال لغلامه: ائتِني بسِبْتِيَّتَيَّ(2)، فلَبِسَهما، ثم دخل مسجدَ حِمصَ فركع ركعتين، فلما فَرَغَ إذا هو بناسٍ جلوسٍ، فقال لهم: ما يُجلِسُكم؟ قالوا: صلَّينا صلاة المكتوبة، ثمَّ قصَّ القاصُّ، فلما فرغ قعدنا نتذاكرُ سُنَّةَ رسول الله ﷺ، فقال معاوية: ما من رجل أدرَكَ النبيَّ ﷺ أقلَّ حديثًا عنه مني، إني سأحدِّثكم بخَصْلتين حَفِظتُهما من رسول الله ﷺ:"ما من رجلٍ يكون على الناسِ فيقومُ على رأسِه الرجالُ، يحبُّ أن تَكثُرَ الخصومُ عنده، فَيَدخُلَ الجنة". قال: وكنت مع النبي ﷺ يومًا فدخل المسجد، فإذا هو بقومٍ في المسجد قعودٌ، فقال النبي ﷺ:"ما يُقعِدُكم؟" قالوا: صلَّينا الصلاةَ المكتوبة، ثم قَعَدْنا نتذاكرُ كتابَ الله وسنَّةَ نبيِّه ﷺ، فقال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله إذا ذَكَرَ شيئًا تَعاظَمَ ذِكرُه"(1).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد سمع عبدُ الله بن بُرَيدة الأسلمي من معاوية غيرَ حديث. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظُ إملاءً في شهر رمضان سنة ثلاث وتسعين(1)وثلاث مئة:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 321 - على شرطهما
English Translation
Ibn Buraydah narrated that Mu'awiyah came out of the public bath in Homs and entered the mosque, where he found people sitting. He asked: "What keeps you sitting here?" They said: "We prayed the obligatory prayer, then the preacher gave his sermon, and when he finished we sat discussing the Sunnah of the Messenger of Allah (peace be upon him)." Mu'awiyah said: "There is no one who met the Prophet (peace be upon him) who has narrated fewer hadiths from him than I have. I will narrate two things I memorized from the Messenger of Allah (peace be upon him): 'No ruler over the people, before whom men stand, who loves having many disputes brought to him, will enter Paradise.' And: I was with the Prophet (peace be upon him) one day when he entered the mosque and found a group sitting. The Prophet (peace be upon him) asked: 'What keeps you sitting here?' They said: 'We prayed the obligatory prayer, then we sat discussing the Book of Allah and the Sunnah of His Prophet (peace be upon him).' The Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'Indeed, when Allah mentions something, its remembrance becomes magnified.'"
Urdu Translation
ابن بریدہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حمص کے حمام سے نکلے اور اپنے غلام سے کہا کہ میری سبتی (چمڑے کی) جوتیاں لے آؤ، انہوں نے وہ پہنیں، پھر حمص کی مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھی، جب فارغ ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، ان سے پوچھا: تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم نے فرض نماز ادا کی، پھر ایک وعظ کرنے والے نے نصیحت کی، اور جب وہ فارغ ہوا تو ہم بیٹھ کر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی سنت کا تذکرہ کرنے لگے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی صحبت پانے والوں میں مجھ سے کم حدیث بیان کرنے والا کوئی نہیں، میں تمہیں دو ایسی باتیں بتاتا ہوں جو میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے یاد کی ہیں:”جو شخص لوگوں کا حکمران ہو اور لوگ اس کے سامنے دست بستہ (عاجزی سے) کھڑے ہوں اور وہ یہ پسند کرتا ہو کہ اس کے گرد بہت سے جھگڑے اور فریادی جمع ہوں (یعنی وہ تکبر کرے)، تو وہ (کیسے) جنت میں داخل ہو گا؟“وہ کہتے ہیں کہ میں ایک دن نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ تھا، آپصلی اللہ علیہ وسلممسجد میں داخل ہوئے تو وہاں کچھ لوگ بیٹھے تھے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”تمہیں کس چیز نے بٹھا رکھا ہے؟“انہوں نے عرض کیا: ہم نے فرض نماز پڑھی پھر بیٹھ کر اللہ کی کتاب اور اس کے نبیصلی اللہ علیہ وسلمکی سنت کا تذکرہ کرنے لگے۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بے شک اللہ جب کسی چیز کا ذکر کرتا ہے تو اس کا تذکرہ بہت عظیم ہو جاتا ہے۔“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور عبداللہ بن بریدہ اسلمی نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے کئی احادیث سنی ہیں۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 325]
