Arabic (Original)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مهدي الأصبهاني. وأخبرني أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزني، حدثنا علي بن محمد بن عيسى، قالوا: حدثنا أبو اليَمَان الحَكَم بن نافع البَهْراني، حدثنا شعيب بن أبي حمزة، عن الزُّهري، حدثنا أنس بن مالك، عن أم حَبيبة، عن النبي ﷺ أنه قال:"أُريتُ ما تلقى أمَّتي بعدي وسَفْكَ بعضهم دماءَ بعضٍ، وسَبَقَ ذلك من الله كما سَبَقَ في الأُمم قبلهم، فسألتُه أن يُولِيَني يوم القيامة شفاعةً فيهم، ففعل"(1).هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والعِلَّة عندهما فيه أنَّ أبا اليَمَان حدَّث به مرتين، فقال مرةً: عن شعيب عن الزُّهري عن أنس، وقال مرةً: عن شعيب عن ابن أبي حُسَين عن أنس. وقد قدَّمنا القولَ في مثل هذا: أنه لا يُنكر أن يكون الحديثُ عند إمام من الأئمة عن شيخين، فمرةً يحدِّث به عن هذا ومرةً عن ذاك. وقد حدَّثني أبو الحسن عليُّ بن محمد بن عمر، حدثنا يحيى بن محمد بن صاعدٍ، حدثنا إبراهيم بن هانئ النيسابوري قال: قال لنا أبو اليَمَان: الحديثُ حديثُ الزُّهري، والذي حدَّثتُكم عن ابن أبي حُسين غَلِطتُ فيه بورقةٍ قلبتُها. قال الحاكم: هذا كالأخذِ باليد، فإنّ إبراهيم بن هانئ ثقةٌ مأمونٌ(2).[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 227 - على شرطهما
English Translation
Umm Habibah narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "I was shown what my Ummah will face after me — their shedding of each other's blood. This had already been decreed by Allah as it was for the nations before them. So I asked Him to grant me intercession for them on the Day of Resurrection, and He granted it." This hadith is authentic upon the conditions of the two Shaykhs, but they did not include it.
Urdu Translation
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”مجھے وہ حالات دکھائے گئے جو میری امت کو میرے بعد پیش آئیں گے اور ان کا ایک دوسرے کا خون بہانا دکھایا گیا، اور اللہ کی طرف سے یہ پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا جیسا کہ پچھلی امتوں میں ہو چکا، پس میں نے اللہ سے سوال کیا کہ وہ قیامت کے دن ان کے حق میں مجھے شفاعت کا حق عطا فرمائے، تو اللہ نے اسے قبول کر لیا۔“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ ان کے نزدیک اس میں علت یہ تھی کہ ابو الیمان نے اسے دو طرح سے روایت کیا، ایک بار«شعيب عن زهري عن انس»کہا، اور دوسری بار«شعيب عن ابن ابي حسين عن انس»کہا۔ ہم پہلے یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ اس میں کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں کہ ایک امام کے پاس ایک حدیث دو اساتذہ سے ہو، وہ کبھی ایک سے بیان کرے کبھی دوسرے سے۔ اور ابو الیمان نے خود وضاحت فرمائی کہ: یہ حدیث دراصل زہری کی ہے، اور جو میں نے ابن ابی حسین سے روایت کی تھی وہ ایک ورق کے الٹ پلٹ ہو جانے کی وجہ سے مجھ سے غلطی ہوئی تھی۔ امام حاکم فرماتے ہیں: یہ وضاحت بالکل واضح اور قابلِ قبول ہے کیونکہ ابراہیم بن ہانئ ثقہ اور امانت دار ہیں۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 228]
