Arabic (Original)
حدَّثَناه عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا عفَّان بن مسلم، حدثنا شُعبة، حدثنا منصور، عن مجاهد، عن ابن عباس، في هذه الآية: ﴿إِلَّا اللَّمَمَ﴾[النجم: 32]قال: الذي يُلِمُّ بالذَّنْب ثم يَدَعُه، ألم تسمع قول الشاعر: إنْ تَغفر اللهمَّ تَغفِرْ جَما … وأيُّ عبدٍ لك لا ألما(1)وهذا التوقيف لا يُوهِنُ سند الأوَّل، فإنَّ زكريا بن إسحاق حافظ ثقة، وقد حدَّث به روح بن عُبادة عن زكريا، وقد ذكرتُ في شرائط هذا الكتاب إخراج التفاسير عن الصحابة.
English Translation
Ibn Abbas narrated regarding the verse "except al-lamam (minor sins)" [al-Najm: 32], he said: This refers to one who commits a sin and then abandons it. "Have you not heard the poet's words: 'O Allah, if You forgive, You forgive abundantly... and which of Your servants has not committed minor sins?'" This stopped narration does not weaken the first connected narration, because Zakariyya ibn Ishaq is a trustworthy hafiz.
Urdu Translation
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت﴿إِلَّا اللَّمَمَ﴾”مگر چھوٹے گناہ“[سورة النجم: 32]کے بارے میں فرمایا کہ: اس سے مراد وہ شخص ہے جو گناہ میں مبتلا ہو جائے اور پھر اسے چھوڑ دے، کیا تم نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا:”اے اللہ! اگر تو بخش دے تو کثرت سے بخش دے... اور تیرا کون سا ایسا بندہ ہے جس سے خطا«لمم»نہ ہوئی ہو۔“یہ موقوف روایت پہلی (مرفوع) روایت کی سند کو کمزور نہیں کرتی کیونکہ زکریا بن اسحاق حافظ اور ثقہ ہیں، اور روح بن عبادہ نے بھی ان سے یہ حدیث بیان کی ہے، اور میں اس کتاب کی شرائط میں صحابہ سے منقول تفاسیر کی تخریج کا ذکر کر چکا ہوں۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 182]
