Arabic (Original)
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عَمْرَويهِ الصَّفّار ببغداد، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الأحوص بن جوَّاب، حدثنا يحيى بن سَلَمة بن كُهيل، عن أبيه، عن عمران بن الجَعْد، عن ابن عباس: أنَّ قريشًا قالت: يا محمدُ، ادعُ ربَّك أن يجعل الصَّفا ذهبًا ونؤمن لك، فقال رسول الله ﷺ:"أتفعلون؟" قالوا: نعم، فأتى جبريلُ النبي ﷺ فقال:"استوثق" ثم أتي جبريلُ فقال:"يا محمدُ، إِنَّ الله قد أعطاك ما سألت، إن شئتَ أصبحَ لك الصَّفا ذهبًا، ومن كَفَرَ بعد ذلك عذَّبتُه عذابًا لا أعذَّبه أحدًا من العالمين، وإن شئتَ فتحتُ لهم باب التوبة والإنابة" فقال رسول الله ﷺ:"بابُ التوبة والرَّحمة أحبُّ إليَّ"(1). هذا الوَهْمُ لا يُوهِنُ حديث الثوري، فإني لا أعرف عمران بن الجعد في التابعين، إنما روى إسماعيلُ بن أبي خالد عن عمران بن أبي الجعد، فأمّا عمران بن الجعد فإنه من أتباع التابعين.
English Translation
Ibn Abbas narrated that the Quraysh said: "O Muhammad, ask your Lord to turn Safa into gold and we will believe in you." The Messenger of Allah (peace be upon him) asked: "Will you really do so?" They said: "Yes." Then Jibril came to the Prophet and said: "Get their firm pledge." Then Jibril came again and said: "O Muhammad, Allah has granted you what you asked. If you wish, Safa will become gold, but whoever disbelieves after that, I will punish him with a punishment unlike any other. And if you wish, I will open the doors of repentance and mercy." He said: "Rather, the doors of repentance and mercy."
Urdu Translation
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش نے کہا: اے محمد! اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ صفا کو سونا بنا دے تو ہم آپ کی تصدیق کریں گے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”کیا تم ایسا کرو گے؟“انہوں نے کہا: جی ہاں، تب جبرائیل علیہ السلام نبیصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آئے اور کہا:”ان سے پختہ عہد لے لیں“، پھر جبرائیل علیہ السلام نے کہا:”اے محمد! اللہ نے آپ کو وہ عطا کر دیا ہے جو آپ نے مانگا ہے، اگر آپ چاہیں تو صفا آپ کے لیے سونا بن جائے گا، لیکن اس کے بعد جس نے کفر کیا اسے میں ایسا عذاب دوں گا جو کائنات میں کسی کو نہیں دیا، اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رجوع کا دروازہ کھول دوں“، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”توبہ اور رحمت کا دروازہ مجھے زیادہ پسند ہے۔“یہ وہم (نام کی تبدیلی) امام ثوری کی حدیث کو کمزور نہیں کرتا، کیونکہ میں تابعین میں عمران بن جعد نامی کسی شخص کو نہیں جانتا، جبکہ اسماعیل بن ابی خالد نے عمران بن ابی جعد سے روایت کی ہے، رہا عمران بن جعد تو وہ اتباعِ تابعین میں سے ہیں۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 177]
