Arabic (Original)
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن أيوب، حدثنا أبو الرَّبيع الزَّهْراني وأحمد بن إبراهيم قالا: حدثنا حماد بن زيد، عن الصَّقْعَب بن زهير. وحدثني محمد بن صالح بن هانئ - واللفظ له - حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو قُدَامة، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي قال: سمعتُ الصَّقعَب بن زهير يحدِّث عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن عبد الله بن عمرو قال: أتى النبيَّ- ﷺ أعرابيٌّ عليه جُبَّة من طَيَالسةٍ مكفوفةٍ بالدِّيباج - أو مزرورة بالديباج(1)- فقال: إنَّ صاحبَكم هذا يريد يرفعُ كلَّ راعٍ وابنِ راعٍ، ويضعُ كلَّ فارسٍ وابن فارسٍ، فقام النبي ﷺ مُغْضَبًا، فأخذ بمَجامِعِ ثوبه فاجتَذَبَه وقال:"ألا أَرى عليك ثيابَ مَن لا يَعقِلُ" ثم رجع رسول الله ﷺ فجلس فقال:"إنَّ نوحًا لما حَضَرَته الوفاةُ دعا ابنَيهِ فقال: إني قاصٌّ عليكما الوصيةَ، آمرُكما باثنين وأنهاكما عن اثنين: أنهاكما عن الشِّرك والكِبْر، وآمرُكما بلا إله إلا الله، فإنَّ السماواتِ والأرضَ وما فيهما لو وُضِعَت في كِفَّة الميزان، ووُضِعَت لا إله إلا الله في الكِفَّة الأخرى، كانت أرجحَ منهما، ولو أنَّ السماواتِ والأرضَ وما فيهما كانت حَلْقَةً فَوُضِعَت لا إله إلّا الله عليهما، لقَصَمَتهُما، وآمركما بسبحانَ الله وبحمدِه، فإنها صلاةُ كلِّ شيء، وبها يُرزَقُ كلُّ شيء"(2).هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجا للصَّعَب بن زهير، فإنه ثقةٌ قليل الحديث.
English Translation
Abdullah ibn Amr narrated: A Bedouin came to the Prophet (peace be upon him) wearing a cloak trimmed — or buttoned — with silk brocade, and said: "This companion of yours wants to elevate every shepherd and shepherd's son, and to debase every horseman and horseman's son." The Prophet (peace be upon him) stood up angrily, seized the man by his garment and pulled him, and said: "Do I not see upon you the clothing of one who has no sense?" Then the Messenger of Allah (peace be upon him) returned and sat down and said: "When death approached Nuh (Noah, peace be upon him), he called his two sons and said: I am giving you a bequest — I command you with two things and forbid you from two things: I forbid you from shirk (associating partners with Allah) and from pride. And I command you with La ilaha illallah (there is no deity worthy of worship except Allah), for if the heavens and the earth and all that is within them were placed on one side of a scale, and La ilaha illallah were placed on the other side, it would outweigh them. And if the heavens and the earth and all that is within them were a closed ring, and La ilaha illallah were placed upon it, it would break it asunder. And I command you with Subhan Allah wa bi hamdihi (Glory be to Allah and praise be to Him), for it is the prayer of everything, and by it everything is given its sustenance."
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی بارگاہ میں ایک دیہاتی آیا جس نے طیالسہ (ایک چادر) کا جبہ پہنا ہوا تھا جس کے گریبان یا گھنڈیوں پر دیباج (ریشم) لگا ہوا تھا، اس نے کہا: تمہارے یہ صاحب (نبیصلی اللہ علیہ وسلم) چاہتے ہیں کہ ہر چرواہے اور چرواہے کے بیٹے کو بلند کر دیں اور ہر شہسوار اور شہسوار کے بیٹے کو پست کر دیں، تو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمغصے کی حالت میں کھڑے ہوئے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کے کپڑے کو پکڑ کر جھٹکا دیا اور فرمایا:”کیا میں تمہارے اوپر ان لوگوں کا لباس نہ دیکھوں جو عقل نہیں رکھتے؟“پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمواپس تشریف لائے اور بیٹھ کر فرمایا:”بے شک حضرت نوح علیہ السلام کی جب وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں کو بلایا اور فرمایا: میں تمہیں وصیت سنا رہا ہوں، تمہیں دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے روکتا ہوں: میں تمہیں شرک اور تکبر سے روکتا ہوں، اور تمہیں«لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ»”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ اگر تمام آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے انہیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور دوسرے پلڑے میں«لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ»کو رکھا جائے تو یہ پلڑا ان سب پر بھاری رہے گا، اور اگر تمام آسمان و زمین ایک بند حلقہ بن جائیں اور ان پر«لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ»کو رکھ دیا جائے تو یہ کلمہ انہیں توڑ کر رکھ دے گا، اور میں تمہیں«سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ»”اللہ اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے“کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ یہ ہر چیز کی تسبیح ہے اور اسی کے ذریعے ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔“یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن ان دونوں (بخاری و مسلم) نے صقعب بن زہیر کی تخریج نہیں کی کیونکہ وہ ثقہ تو ہیں مگر ان کی روایات کم ہیں۔میں نے ابوالحسن علی بن محمد بن عمر کو سنا کہ عبدالرحمن بن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میں نے ابو زرعہ سے صقعب بن زہیر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ثقہ ہیں اور علاء بن زہیر کے بھائی ہیں۔ اور یہ اس قبیل سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ جب ثقہ راوی حدیث کو متصل سند کے ساتھ بیان کر دے تو کسی دوسرے کا اسے مرسل بیان کرنا اسے نقصان نہیں پہنچاتا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 155]
