Arabic (Original)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا حجَّاج بن محمد، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه، عن أبي جُحَيفة، عن علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن أصابَ حَدًّا فَعَجَّلَ اللهُ له عقوبتَه في الدنيا، فاللهُ أعدلُ من أن يُثنِّيَ على عبده العقوبةَ في الآخرة، ومَن أصابَ حدًّا فَسَتَرَه اللهُ عليه وعَفَا عنه، فاللهُ أكرمُ من أن يعودَ في شيء قد عَفَا عنه"(1).هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا جميعًا بأبي جُحَيفة عن علي(2)، واتفقا على أبي إسحاق، واحتجَّا جميعًا بالحجَّاج بن محمد، واحتجَّ مسلم بيونس بن أبي إسحاق.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 13 - صحيح الإسناد
English Translation
'Ali ibn Abi Talib (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever commits a sin for which there is a prescribed punishment (hadd), and Allah hastens his punishment in this world, then Allah is too just to punish His servant again in the Hereafter. And whoever commits a sin deserving a prescribed punishment, but Allah conceals it and pardons him, then Allah is too generous to return to something He has already pardoned." Al-Hakim graded it sahih al-isnad.
Urdu Translation
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جس شخص سے کوئی ایسا گناہ سرزد ہو جائے جس پر حد (شرعی سزا) لازم آتی ہو اور اللہ تعالیٰ اسے دنیا ہی میں (سزا کی صورت میں) اس کا بدلہ دے دے، تو اللہ اس سے کہیں زیادہ عادل ہے کہ وہ اپنے بندے کو آخرت میں دوبارہ سزا دے، اور جس سے کوئی ایسا گناہ سرزد ہو جائے جس پر حد لازم ہو مگر اللہ تعالیٰ (دنیا میں) اس کی پردہ پوشی فرمائے اور اسے معاف کر دے، تو اللہ اس سے کہیں زیادہ کریم ہے کہ وہ ایسی چیز کی طرف دوبارہ رجوع کرے جسے وہ معاف کر چکا ہو۔“یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اس کی تخریج نہیں کی، حالانکہ ان دونوں نے علی بن ابی طالب سے ابوجحیفہ کی روایت سے احتجاج کیا ہے، اور ابواسحاق کی روایت پر بھی اتفاق کیا ہے، نیز ان دونوں نے حجاج بن محمد سے بھی احتجاج کیا ہے، جبکہ امام مسلم نے یونس بن ابی اسحاق سے بھی احتجاج کیا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 13]
