Arabic (Original)
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا المُعافى بن سليمان الحرَّاني، حدثنا فُلَيح بن سليمان، حدثني هلال بن علي - وهو ابن أبي ميمونة - عن أنس بن مالك قال: بَيْنا رسولُ الله ﷺ وبلالٌ يمشيان بالبَقيع، فقال رسول الله ﷺ:"يا بلالُ، هل تسمعُ ما أسمعُ؟" قال: لا والله يا رسول الله، ما أَسمعُه، قال:"ألَا تسمعُ أهلَ القبور يُعذَّبون"(1).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا على حديث شُعْبة عن قتادة عن أنس عن النبي ﷺ أنه قال:"لولا أن لا(2)تَدافَنُوا، لسألتُ اللهَ أن يُسمِعَكم عذابَ القبر"(3).[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 118 - على شرطهما
English Translation
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever prays our prayer, faces our qiblah, and eats our slaughtered animals — that is a Muslim who has the protection of Allah and the protection of His Messenger. So do not betray Allah's protection."
Urdu Translation
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بقیع (قبرستان) میں چل رہے تھے، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:«يا بلالُ، هل تسمعُ ما أسمعُ؟»”اے بلال! کیا تم وہ سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں؟“انہوں نے عرض کیا: نہیں اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! میں نہیں سن رہا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:«ألَا تسمعُ أهلَ القبور يُعذَّبون»”کیا تم قبر والوں کو نہیں سن رہے جنہیں عذاب دیا جا رہا ہے؟“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، تاہم انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اس کی تخریج نہیں کی، انہوں نے صرف«شعبه عن قتاده عن انس»کی حدیث پر اتفاق کیا ہے جس میں نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم (ڈر کے مارے) اپنے مردوں کو دفنانا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذابِ قبر سنا دے۔“[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 119]
