Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ، مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ إِمَّا قُبْلَةً أَوْ مَسًّا بِيَدٍ أَوْ شَيْئًا كَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا - قَالَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ .
English Translation
Hadrat Ibn Mas'ud reported that a person came to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and told him that he had kissed a woman or touched her with his hand or did something like this. He inquired of him about its expiation. It was (on this occasion) that Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse (as mentioned above)
Urdu Translation
ابو احوص نے سماک سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے علقمہ اور اسود سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا : اللہ کے رسول! میں نے مدینہ کے آخری حصے میں ایک عورت کو قابو کر لیا اور اس کے علاوہ کہ میں اس سے جماع کروں میں نے اس سے اور سب کچھ حاصل کر لیا ۔ تو ( اب ) میں آپ کے سامنے حاضر ہوں ، آپ میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ کر لیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے کہا : اللہ نے تمہارا پردہ رکھا ، کاش! تم خود بھی اپنا پردہ رکھتے ۔ ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا ۔ تو ( کچھ دیر بعد ) وہ شخص اٹھا اور چل دیا ۔ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پیچھے ایک آدمی بھیج کر اسے بلایا اور اس کے سامنے یہ آیت پڑھی : " دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو ، بےشک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں ۔ یہ ان کے لیے یاددہانی ہے جو اچھی بات کو یاد رکھنے والے ہیں ۔ " اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اللہ کے نبی! کیا یہ خاص اسی کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے ۔
