Sahih MuslimThe Book of Legal Punishments#4431Sahih
Arabic (Original)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ - عَنْ غَيْلاَنَ، - وَهُوَ ابْنُ جَامِعٍ الْمُحَارِبِيُّ - عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي . فَقَالَ " وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ " . قَالَ فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ " . قَالَ فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فِيمَ أُطَهِّرُكَ " . فَقَالَ مِنَ الزِّنَى . فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبِهِ جُنُونٌ " . فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ . فَقَالَ " أَشَرِبَ خَمْرًا " . فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْكَهَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَزَنَيْتَ " . فَقَالَ نَعَمْ . فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَكَانَ النَّاسُ فِيهِ فِرْقَتَيْنِ قَائِلٌ يَقُولُ لَقَدْ هَلَكَ لَقَدْ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ وَقَائِلٌ يَقُولُ مَا تَوْبَةٌ أَفْضَلَ مِنْ تَوْبَةِ مَاعِزٍ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ اقْتُلْنِي بِالْحِجَارَةِ - قَالَ - فَلَبِثُوا بِذَلِكَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُمْ جُلُوسٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ " اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ " . قَالَ فَقَالُوا غَفَرَ اللَّهُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ . - قَالَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ " . قَالَ ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ مِنَ الأَزْدِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي . فَقَالَ " وَيْحَكِ ارْجِعِي فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ " . فَقَالَتْ أَرَاكَ تُرِيدُ أَنْ تُرَدِّدَنِي كَمَا رَدَّدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ . قَالَ " وَمَا ذَاكِ " . قَالَتْ إِنَّهَا حُبْلَى مِنَ الزِّنَا . فَقَالَ " آنْتِ " . قَالَتْ نَعَمْ . فَقَالَ لَهَا " حَتَّى تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكِ " . قَالَ فَكَفَلَهَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ حَتَّى وَضَعَتْ قَالَ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ قَدْ وَضَعَتِ الْغَامِدِيَّةُ . فَقَالَ " إِذًا لاَ نَرْجُمَهَا وَنَدَعَ وَلَدَهَا صَغِيرًا لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ " . فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ إِلَىَّ رَضَاعُهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ . قَالَ فَرَجَمَهَا .
English Translation
Sulaiman (upon him be peace) b. Buraida reported on the authority of his father that Ma, iz b. Malik came to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and said to him:Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), purify me, whereupon he said: Woe be upon you, go back, ask forgiveness of Allah and turn to Him in repentance. He (the narrator) said that he went back not far, then came and said: the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), purify me. whereupon Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Woe be upon you, go back and ask forgiveness of Allah and turn to Him in repentance. He (the narrator) said that he went back not far, when he came and said: the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), purify me. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated as he had said before. When it was the fourth time, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) (may (blessings and peace of Allah be upon him)) said: From what am I to purify you? He said: From adultery, Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) inquired if he had been mad. He was informed that he was not mad. He said: Has he drunk wine? A person stood up and smelt his breath but noticed no smell of wine. Thereupon Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Have you committed adultery? He said: Yes. He made pronouncement about him and he was stoned to death. The people had been (divided) into two groups about him (Ma'iz). One of them said: He has been undone for his sins had encompassed him, whereas another said: There is no repentance more excellent than the repentance of Ma'iz, for he came to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and placing his hand in his (in the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)'s) hand said: Kill me with stones. (This controversy about Ma'iz) remained for two or three days. Then came Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) to them (his Companions) as they were sitting. He greeted them with salutation and then sat down and said: Ask forgiveness for Ma'iz b. Malik. They said: May Allah forgive Ma'iz b. Malik. Thereupon Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated: He (Ma'iz) has made such a repentance that if that were to be divided among a people, it would have been enough for all of them. He (the narrator) said: Then a woman of Ghamid, a branch of Azd, came to him and said: Messenger of of Allah, purify me, whereupon he said: Woe be upon you; go back and beg forgiveness from Allah and turn to Him in repentance. She said: I find that you intend to send me back as you sent back Ma'iz. b. Malik. He (the Holy, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) said: What has happened to you? She said that she had become pregnant as a result of fornication. He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) said: Is it you (who has done that)? She said: Yes. He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) said to her: (You will not be punished) until you deliver what is there in your womb. One of the Ansar became responsible for her until she was delivered (of the child). He (that Ansari) came to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and said the woman of Ghamid has given birth to a child. He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) said: In that case we shall not stone her and so leave her infant with none to suckle him. One of the Ansar got up and said: Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), let the responsibility of his suckling be upon me. She was then stoned to death
Urdu Translation
سلیمان بن بریدہ نے اپنے والد ( بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ماعز بن مالک ( اسلمی ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "" تم پر افسوس! جاؤ ، اللہ سے استغفار کرو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو ۔ "" کہا : وہ لوٹ کر تھوڑی دور تک گئے ، پھر واپس آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے ۔ تو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "" تم پر افسوس! جاؤ ، اللہ سے استغفار کرو اور اس کی طرف رجوع کرو ۔ "" کہا : وہ لوٹ کر تھوڑی دور تک گئے ، پھر آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے ۔ تو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ( پھر ) اسی طرح فرمایا حتی کہ جب چوتھی بارر ( یہی بات ) ہوئی ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا : "" میں تمہیں کس چیز سے پاک کروں؟ "" انہوں نے کہا : زنا سے ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : "" کیا اسے جنون ہے؟ "" تو آپ کو بتایا گیا کہ یہ مجنون نہیں ہے ۔ تو آپ نے پوچھا : "" کیا اس نے شراب پی ہے؟ "" اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس کا منہ سونگھا تو اسے اس سے شراب کی بو نہ آئی ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : "" کیا تم نے زنا کیا ہے؟ "" انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ( یہیں آپ نے اس سے اس واقعے کی تصدیق چاہی جو آپ تک پہنچا تھا ) پھر آپ نے ان ( کو رجم کرنے ) کے بارے میں حکم دیا ، چنانچہ انہیں رجم کر دیا گیا ۔ بعد ازاں ان کے حوالے سے لوگوں کے دو گروہ بن گئے ، کچھ کہنے والے یہ کہتے : وہ تباہ و برباد ہو گیا ، اس کے گناہ نے اسے گھیر لیا ۔ اور کچھ کہنے والے یہ کہتے : ماعز کی توبہ سے افضل کوئی توبہ نہیں ( ہو سکتی ) کہ وہ ( خود ) نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا ، پھر کہا : مجھے پتھروں سے مار ڈالیے ۔ کہا : دو یا تین دن وہ ( اختلاف کی ) اسی کیفیت میں رہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ، وہ سب بیٹحے ہوئے تھے ، آپ نے سلام کہا ، پھر بیٹھ گئے اور فرمایا : "" ماعز بن مالک کے لیے بخشش مانگو ۔ "" کہا : تو لوگوں نے کہا : اللہ ماعز بن مالک کو معاف فرمائے! تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "" بلاشبہ انہوں نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ایک امت میں بانٹ دی جائے تو ان سب کو کافی ہو جائے ۔ "" کہا : پھر آپ کے پاس ازد قبیلے کی شاخ غامد کی ایک عورت آئی اور کہنے لگی : اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے ۔ تو آپ نے فرمایا : "" تم پر افسوس! لوٹ جاؤ ، اللہ سے بخشش مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو ۔ "" اس نے کہا : میرا خیال ہے آپ مجھے بھی بار بار لوٹانا چاہتے ہیں جیسے ماعز بن مالک کو لوٹایا تھا ۔ آپ نے پوچھا : "" وہ کیا بات ہے ( جس میں تم تطہیر چاہتی ہو؟ ) "" اس نے کہا : وہ زنا کی وجہ سے حاملہ ہے ۔ تو آپ نے ( تاکیدا ) پوچھا : کیا تم خود؟ "" اس نے جواب دیا : جی ہاں ، تو آپ نے اسے فرمایا : "" ( جاؤ ) یہاں تک کہ جو تمہارے پیٹ میں ہے اسے جنم دے دو ۔ "" کہا : تو انصار کے ایک آدمی نے اس کی کفالت کی حتی کہ اس نے بچے کو جنم دیا ۔ کہا : تو وہ آدمی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ور کہنے لگا : غامدی عورت نے بچے کو جنم دے دیا ہے ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "" تب ہم ( ابھی ) اسے رجم نہیں کریں گے اور اس کے بچے کو کم سنی میں ( اس طرح ) نہیں چھوڑیں گے کہ کوئی اسے دودھ پلانے والا نہ ہو ۔ "" پھر انصار کا ایک آدمی کھڑا ہوا ور کہا : اے اللہ کے نبی! اس کی رضاعت میرے ذمے ہے ۔ کہا : تو آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ - عَنْ غَيْلاَنَ، - وَهُوَ ابْنُ جَامِعٍ الْمُحَارِبِيُّ - عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي . فَقَالَ " وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ " . قَالَ فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ " . قَالَ فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فِيمَ أُطَهِّرُكَ " . فَقَالَ مِنَ الزِّنَى . فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبِهِ جُنُونٌ " . فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ . فَقَالَ " أَشَرِبَ خَمْرًا " . فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْكَهَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَزَنَيْتَ " . فَقَالَ نَعَمْ . فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَكَانَ النَّاسُ فِيهِ فِرْقَتَيْنِ قَائِلٌ يَقُولُ لَقَدْ هَلَكَ لَقَدْ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ وَقَائِلٌ يَقُولُ مَا تَوْبَةٌ أَفْضَلَ مِنْ تَوْبَةِ مَاعِزٍ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ اقْتُلْنِي بِالْحِجَارَةِ - قَالَ - فَلَبِثُوا بِذَلِكَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُمْ جُلُوسٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ " اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ " . قَالَ فَقَالُوا غَفَرَ اللَّهُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ . - قَالَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ " . قَالَ ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ مِنَ الأَزْدِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي . فَقَالَ " وَيْحَكِ ارْجِعِي فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ " . فَقَالَتْ أَرَاكَ تُرِيدُ أَنْ تُرَدِّدَنِي كَمَا رَدَّدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ . قَالَ " وَمَا ذَاكِ " . قَالَتْ إِنَّهَا حُبْلَى مِنَ الزِّنَا . فَقَالَ " آنْتِ " . قَالَتْ نَعَمْ . فَقَالَ لَهَا " حَتَّى تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكِ " . قَالَ فَكَفَلَهَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ حَتَّى وَضَعَتْ قَالَ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ قَدْ وَضَعَتِ الْغَامِدِيَّةُ . فَقَالَ " إِذًا لاَ نَرْجُمَهَا وَنَدَعَ وَلَدَهَا صَغِيرًا لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ " . فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ إِلَىَّ رَضَاعُهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ . قَالَ فَرَجَمَهَا .
Sulaiman (upon him be peace) b. Buraida reported on the authority of his father that Ma, iz b. Malik came to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and said to him:Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), purify me, whereupon he said: Woe be upon you, go back, ask forgiveness of Allah and turn to Him in repentance. He (the narrator) said that he went back not far, then came and said: the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), purify me. whereupon Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Woe be upon you, go back and ask forgiveness of Allah and turn to Him in repentance. He (the narrator) said that he went back not far, when he came and said: the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), purify me. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated as he had said before. When it was the fourth time, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) (may (blessings and peace of Allah be upon him)) said: From what am I to purify you? He said: From adultery, Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) inquired if he had been mad. He was informed that he was not mad. He said: Has he drunk wine? A person stood up and smelt his breath but noticed no smell of wine. Thereupon Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Have you committed adultery? He said: Yes. He made pronouncement about him and he was stoned to death. The people had been (divided) into two groups about him (Ma'iz). One of them said: He has been undone for his sins had encompassed him, whereas another said: There is no repentance more excellent than the repentance of Ma'iz, for he came to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and placing his hand in his (in the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)'s) hand said: Kill me with stones. (This controversy about Ma'iz) remained for two or three days. Then came Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) to them (his Companions) as they were sitting. He greeted them with salutation and then sat down and said: Ask forgiveness for Ma'iz b. Malik. They said: May Allah forgive Ma'iz b. Malik. Thereupon Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated: He (Ma'iz) has made such a repentance that if that were to be divided among a people, it would have been enough for all of them. He (the narrator) said: Then a woman of Ghamid, a branch of Azd, came to him and said: Messenger of of Allah, purify me, whereupon he said: Woe be upon you; go back and beg forgiveness from Allah and turn to Him in repentance. She said: I find that you intend to send me back as you sent back Ma'iz. b. Malik. He (the Holy, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) said: What has happened to you? She said that she had become pregnant as a result of fornication. He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) said: Is it you (who has done that)? She said: Yes. He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) said to her: (You will not be punished) until you deliver what is there in your womb. One of the Ansar became responsible for her until she was delivered (of the child). He (that Ansari) came to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and said the woman of Ghamid has given birth to a child. He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) said: In that case we shall not stone her and so leave her infant with none to suckle him. One of the Ansar got up and said: Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), let the responsibility of his suckling be upon me. She was then stoned to death
سلیمان بن بریدہ نے اپنے والد ( بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ماعز بن مالک ( اسلمی ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "" تم پر افسوس! جاؤ ، اللہ سے استغفار کرو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو ۔ "" کہا : وہ لوٹ کر تھوڑی دور تک گئے ، پھر واپس آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے ۔ تو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "" تم پر افسوس! جاؤ ، اللہ سے استغفار کرو اور اس کی طرف رجوع کرو ۔ "" کہا : وہ لوٹ کر تھوڑی دور تک گئے ، پھر آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے ۔ تو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ( پھر ) اسی طرح فرمایا حتی کہ جب چوتھی بارر ( یہی بات ) ہوئی ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا : "" میں تمہیں کس چیز سے پاک کروں؟ "" انہوں نے کہا : زنا سے ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : "" کیا اسے جنون ہے؟ "" تو آپ کو بتایا گیا کہ یہ مجنون نہیں ہے ۔ تو آپ نے پوچھا : "" کیا اس نے شراب پی ہے؟ "" اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس کا منہ سونگھا تو اسے اس سے شراب کی بو نہ آئی ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : "" کیا تم نے زنا کیا ہے؟ "" انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ( یہیں آپ نے اس سے اس واقعے کی تصدیق چاہی جو آپ تک پہنچا تھا ) پھر آپ نے ان ( کو رجم کرنے ) کے بارے میں حکم دیا ، چنانچہ انہیں رجم کر دیا گیا ۔ بعد ازاں ان کے حوالے سے لوگوں کے دو گروہ بن گئے ، کچھ کہنے والے یہ کہتے : وہ تباہ و برباد ہو گیا ، اس کے گناہ نے اسے گھیر لیا ۔ اور کچھ کہنے والے یہ کہتے : ماعز کی توبہ سے افضل کوئی توبہ نہیں ( ہو سکتی ) کہ وہ ( خود ) نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا ، پھر کہا : مجھے پتھروں سے مار ڈالیے ۔ کہا : دو یا تین دن وہ ( اختلاف کی ) اسی کیفیت میں رہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ، وہ سب بیٹحے ہوئے تھے ، آپ نے سلام کہا ، پھر بیٹھ گئے اور فرمایا : "" ماعز بن مالک کے لیے بخشش مانگو ۔ "" کہا : تو لوگوں نے کہا : اللہ ماعز بن مالک کو معاف فرمائے! تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "" بلاشبہ انہوں نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ایک امت میں بانٹ دی جائے تو ان سب کو کافی ہو جائے ۔ "" کہا : پھر آپ کے پاس ازد قبیلے کی شاخ غامد کی ایک عورت آئی اور کہنے لگی : اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے ۔ تو آپ نے فرمایا : "" تم پر افسوس! لوٹ جاؤ ، اللہ سے بخشش مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو ۔ "" اس نے کہا : میرا خیال ہے آپ مجھے بھی بار بار لوٹانا چاہتے ہیں جیسے ماعز بن مالک کو لوٹایا تھا ۔ آپ نے پوچھا : "" وہ کیا بات ہے ( جس میں تم تطہیر چاہتی ہو؟ ) "" اس نے کہا : وہ زنا کی وجہ سے حاملہ ہے ۔ تو آپ نے ( تاکیدا ) پوچھا : کیا تم خود؟ "" اس نے جواب دیا : جی ہاں ، تو آپ نے اسے فرمایا : "" ( جاؤ ) یہاں تک کہ جو تمہارے پیٹ میں ہے اسے جنم دے دو ۔ "" کہا : تو انصار کے ایک آدمی نے اس کی کفالت کی حتی کہ اس نے بچے کو جنم دیا ۔ کہا : تو وہ آدمی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ور کہنے لگا : غامدی عورت نے بچے کو جنم دے دیا ہے ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "" تب ہم ( ابھی ) اسے رجم نہیں کریں گے اور اس کے بچے کو کم سنی میں ( اس طرح ) نہیں چھوڑیں گے کہ کوئی اسے دودھ پلانے والا نہ ہو ۔ "" پھر انصار کا ایک آدمی کھڑا ہوا ور کہا : اے اللہ کے نبی! اس کی رضاعت میرے ذمے ہے ۔ کہا : تو آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا