Arabic (Original)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ، سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقْبَلْتُ مَعَ عُمَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ كَنَحْوِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ شَأْنُ الْمَرْأَتَيْنِ قَالَ حَفْصَةُ وَأُمُّ سَلَمَةَ . وَزَادَ فِيهِ وَأَتَيْتُ الْحُجَرَ فَإِذَا فِي كُلِّ بَيْتٍ بُكَاءٌ . وَزَادَ أَيْضًا وَكَانَ آلَى مِنْهُنَّ شَهْرًا فَلَمَّا كَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ نَزَلَ إِلَيْهِنَّ .
English Translation
Hadrat Ibn Abbas (Allah be pleased with them) said:I came along with Umar until we reached Marr al-Zahran (the name of a place), and the rest of the hadith is the same as narrated by Sulaiman (upon him be peace) b. Bilal (except with) the variation (of words) that I said: (What) about these two women? He said: They were Hadrat Hafsa and Hadrat Umm Salama. And he made this addition: I came to the apartments and in every apartment there was (the noise) of weeping. And this addition was also made: And he (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) had taken an oath of remaining away from them for a month, and when twenty-nine days had passed, he visited them
Urdu Translation
حماد بن سلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبید بن حنین سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ( حج سے ) واپس آیا حتی کہ جب ہم مرالظہران میں تھے ۔ ۔ ۔ آگے سلیمان بن حضرت بلال کی حدیث کے مانند پوری لمبی حدیث بیان کی ، مگر انہوں ( حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : میں نے عرض کی : دو عورتوں کا معاملہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا : ( وہ ) حفصہ اور حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنھن ( تھیں ۔ ) اور اس میں یہ اضافہ کیا : میں ( ازواج مطہرات کے ) حجروں کے پاس آیا تو ہر گھر میں رونے کی آواز تھی ، اور یہ بھی اضافہ کیا : آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ایک ماہ ایلاء کیا تھا ، جب 29 دن ہوئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ( بالا خانے سے ) اتر کر ان کے پاس تشریف لے آئے
